Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مئی 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاق اور سندھ کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے بھی عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کردیا
    • اقوام متحدہ میں پاکستان کی تیار کردہ سالانہ رپورٹ متفقہ طور پر منظور کرلی گئی
    • چین میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکہ، 82 افراد ہلاک، متعدد زخمی ،کئی لاپتہ
    • فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، امریکہ ایران کشیدگی میں کمی پر گفتگو
    • حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
    • ​اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کا دسواں کانووکیشن، 221 طلبہ میں ڈگریاں اور 30 گولڈ میڈلز تقسیم
    • 274 کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ کو ایک دن میں سر کرکے نیاریکارڈ قائم کردیا
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ابابیل فورس،اہلِ پشاور پر ابابیل بن کر ٹوٹ پڑی ہے۔۔۔
    بلاگ

    ابابیل فورس،اہلِ پشاور پر ابابیل بن کر ٹوٹ پڑی ہے۔۔۔

    اکتوبر 30, 2025Updated:اکتوبر 30, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Ababeel Force, turned into Ababeel
    اور جب واقعی یہ سڑکوں پر آئی… تو ہم نے خود کو ہالی ووڈ کی کسی ہارر فلم کے سین میں پایا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    آفاقیات

    پشاور سے رشید آفاق کی خصوصی تحریر: ۔

    جب میں دبئی میں تھا تو اکثر شام کے وقت سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے مزدور طبقے کے جوانوں کو دیکھا کرتا تھا، جو بالوں میں سرسوں کا تیل لگاکر، مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے، گریبان کے بٹن کھول کر اور شلوار کے پائنچے ٹخنوں تک چڑھاکر نائٹ کلبوں کی طرف ایسے متکبرانہ انداز میں اہستہ اہستہ قدم اٹھاتے جاتے تھے جیسے کوئی بلڈوزر کسی فلم کے سین میں سلو موشن میں جا رہا ہو؟
    میں آہستہ سے ان کے قریب سے گزرتا اور کہتا:دا دبئی خرسوے نا؟(دبئی تو بیچنے کا ارادہ نہیں ہے ناں؟)
    اسی طرح وزیرستان میں ہمارا ایک دوست تھا، نام تھا امیراللہ،ہم تین چار دوست تھے جو آپس میں گپ شپ لگاکر زندگی کو آہستہ آہستہ آگے دھکیل رہے تھے،اس دوران امیراللہ نے میڈیسن کا کاروبار شروع کیا، کئی معروف کمپنیوں کی ایجنسیاں لیں،دیکھتے ہی دیکھتے اُس کا کاروبار پہلے بنوں، پھر سیدھا اسلام آباد تک پہنچ گیا،امیراللہ کے حالات بدلے، گفتگو کا انداز بدل گیا،
    کبھی کبھار اسلام آباد سے ہمیں یاد (یا ذلیل) کرنے کے لیے فون کرتا،فون پر موصوف یوں نوابی انداز میں بات شروع کرتے،
    امیراللہ خان صاحب، اسلام آباد سے بات کر رہا ہوں،
    یعنی خود کو صاحب کہتے اور ساتھ یہ تاثر دیتے کہ ہم عام لوگ ہیں،رفتہ رفتہ اُس نے خود کو نوابوں میں اور ہمیں کمی کمینوں میں شمار کرنا شروع کر دیا،
    مرحوم سابق آئی جی ناصر درانی کو اللہ بخشے موصوف نے کے پی پولیس میں واقعی تبدیلی لائی تھی، جو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے،وہ اکثر کہا کرتے تھے،
    میں ایک ایسی فورس تیار کر رہا ہوں کہ جب وہ پشاور کی سڑکوں پر نکلے گی تو لوگ خود کو کسی ہالی ووڈ فلم کے سین میں محسوس کریں گے
    تب ہم سوچتے تھے: کاش یہ فورس جلدی میدان میں آئے،
    اور جب واقعی یہ سڑکوں پر آئی… تو ہم نے خود کو ہالی ووڈ کی کسی ہارر فلم کے سین میں پایا!
    ایک تو اس ابابیل فورس میں زیادہ تر نہیں بلکہ تقریباً تمام اہلکار دور دراز اضلاع سے لائے گئے ہیں (جن میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے اپنے علاقے سے سب سے زیادہ لوگ بھرتی کرائے تاکہ وہاں نئی بھرتیاں ہو سکیں)
    زیادہ تر اہلکار بنوں، ڈی آئی خان، سوات اور شانگلہ جیسے علاقوں سے آئے، جو پشاور پہنچ کر وہی سرائیکی سٹائل اور امیراللہ خان والا غرور ساتھ لائے ہیں، اور اب روزانہ اہلِ پشاور پر اپنی مہمان نوازی کا مظاہرہ فرما رہے ہیں،

    انہیں نہ اہلِ پشاور کے مزاح اور طرزِ گفتگو کا علم ہے، نہ رسم و رواج کا، بلکہ اکثر کو تو شہر کے مقامات کا پتہ تک نہیں،
    زیادہ تر کا تجربہ صرف اتنا ہے کہ دیہات میں کسی راہ چلتے بندے سے “چائے پانی” لیکر معاملہ ختم کر دیتے تھے کیونکہ وہاں کسی کی پہنچ نہیں ہوتی تھی
    یہ کیپٹل سٹی ہے
    یہاں آئی جی، ڈی آئی جیز، سی سی پی او، ایس ایس پی آپریشنز، درجنوں ایس پیز، وزیراعلیٰ، گورنر، ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزراء ہر موڑ پر نظر آتے ہیں
    تو جب یہ اہلکار پشاور میں وہی دیہی انداز اپناتے ہیں، تو شکایت فوراً اعلیٰ افسران تک پہنچ جاتی ہے اور ان کی ساری “کارکردگی” دھری کی دھری رہ جاتی ہے ۔

    گزشتہ سال میرے ایک رشتہ دار سے راہ چلتے ابابیل فورس کے چار جوانوں نے ستر ہزار روپے لیے
    انہوں نے متاثرہ نوجوان سے پیسے اور فون لیکر کہا کہ ہم تمہیں فون کریں گے ،
    متاثرہ شخص میرے پاس آیا میں نے متعلقہ ڈی ایس پی سے رابطہ کیا،
    موصوف نے پوچھا: “جن چار اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھا رہے ہیں کہ انہوں نے پیسے نہیں لیے، کیا یہ لڑکا جھوٹ تو نہیں بول رہاہے؟
    میں نے کہا: “جناب، ذرا سوچئے،اگر یہ جھوٹ بول رہا ہوتا تو رات گیارہ بجے مختلف تھانوں کے چکر کیوں لگاتا؟اور رات گئے ابابیل فورس کے ان جوانوان کی نشاندہی کرتا،
    اور پھر اسی رات وہ ستر ہزار روپے ان چار اہلکاروں سے واپس لے کر متاثرہ شخص کو دے دیے گئے۔
    ڈی ایس پی صاحب نے بتایا کہ “اہلکاروں نے پیسے آپس میں انصاف کے ساتھ برابر تقسیم کیے تھے!

    قانونی طور پر ناکہ صرف ایک اے ایس آئی اور اس کے ماتحت اہلکار لگا سکتے ہیں،
    لیکن ابابیل والے جہاں چاہیں، چار کانسٹیبل موٹرسائیکل سے اتر کر “محفلِ جمال” سجا لیتے ہیں ۔
    افسر نہ ہونے کے باعث ایک دوسرے کو “جناب جناب” کہہ کر شکار کو پکڑنے کی حکمت عملی طے کرتے ہیں،

    پشاور میں سنیچرز نے جو اودھم مچایا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔
    روز کسی نہ کسی تھانے کی حدود میں مقامی ایس ایچ او خود سنیچرز سے مقابلہ کرکے اُنہیں “فل یا ہاف فرائی” بنا دیتا ہے ۔
    لیکن آج تک ہم نے نہیں دیکھا، نہ کوئی خبر آئی،  کہ ابابیل کے شیر جوانوں نے کسی سنیچر کو پکڑا ہو! ان میں زیادہ تر تو بازاروں میں گرمیوں میں بھی دکانداروں سے مچھلی فرائی کھاتے ہیں کونکہ بنوں، ڈی آئی خان میں مچھلی کھانا بھی نوابوں کی خواراک ہے ،اگر کسی کو پکڑے تو کسی سے بات کرنا گوارہ نہیں کرتے اور آپس میں ایک دوسرے سے آئی جی کے سٹائل میں بات کرتے ہیں،سٹائل ایسا کہ ہر دوسرا جوان پشتو فلموں کا شاہدخان لگتاہے،جیبوں میں کنگھی،نسوار اور مسواک رکھنے کو ہی ثواب عظیم سمجھتے ہیں،باقی صغیرہ وکیبرہ گناہوں کی کتاب کو شائد پہنچے نہیں،موٹرسائیکلوں کی سائڈ مرر جو جتنا خود کو ایک گھنٹے میں دیکھتے ہیں شائد کہ گل پانڑہ پورے ہفتے میں خود کو اتنا دیکھتی ہو،

    یہ حضرات سڑکوں پر شہریوں کے لائسنس، گاڑی کے کاغذات اور ہیلمٹ کے ساتھ ساتھ جیبوں پر بھی ایسے ہاتھ مارتے ہیں جیسے کوئی جاگیردار اپنی جاگیر میں سیر کر رہا ہو۔

    خدارا! اس شہر پر رحم کریں ۔
    ان “شیر جوانوں” سے اہلِ پشاور کو محفوظ کیا جائے۔
    یہ اب شترِ بےمہار بن چکے ہیں ۔

    ٹریفک پولیس اگر کسی شہری کو ہیلمٹ نہ پہننے پر 1020 روپے جرمانہ کرتی ہے تو یہ خود بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکلوں پر ایسے پھرتے ہیں جیسے شہر ابھی ابھی فتح کیا ہو!
    کیا اس سے عام شہری یہ نہیں سوچتا کہ “کیا ابابیل والے درد پروف ہیں؟ موت کو بیچ دیا ہے؟ یا واقعی آسمان سے اترے ہیں؟”

    ان لوگوں کو کوئی سمجھائے کہ اس شہر میں کوئی ابراہہ نامی کافر موجود نہیں،
    لہٰذا حقیقی ابابیل بن کر نازل ہونے کی ضرورت نہیں ہے،
    باقی سب خیر خیریت ہے،
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو !

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکرم میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، پاک فوج کے کیپٹن سمیت 6 جوان شہید
    Next Article ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے افغان طالبان کیساتھ دوبارہ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاق اور سندھ کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے بھی عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کردیا

    مئی 23, 2026

    اقوام متحدہ میں پاکستان کی تیار کردہ سالانہ رپورٹ متفقہ طور پر منظور کرلی گئی

    مئی 23, 2026

    چین میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکہ، 82 افراد ہلاک، متعدد زخمی ،کئی لاپتہ

    مئی 23, 2026

    فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، امریکہ ایران کشیدگی میں کمی پر گفتگو

    مئی 23, 2026

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا

    مئی 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.