افغانستان میں ایک بار پھر دہشت گرد تنظیموں کے درمیان سنگین مسلح تصادم نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور حافظ گل بہادر گروپ کے درمیان جاری اس تازہ لڑائی نے نہ صرف درجنوں جنگجوؤں کی جان لی ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ لڑائی بنیادی طور پر دونوں گروپوں کے درمیان مفادات کے تصادم اور اہم افغان علاقوں، جیسے ننگرہار اور پکتیکا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جاری ہے۔ دونوں گروہ اپنے اپنے دائرہ اختیار کو بڑھانے کی کوشش میں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں، جس کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
اس تمام تر صورتحال میں ایک نیا اور خطرناک رخ اس وقت سامنے آیا جب افغان میڈیا اور بعض عوامی حلقوں نے پاکستان پر الزام لگانا شروع کیا کہ وہ افغانستان میں دراندازی کر رہا ہے اور عام شہری آبادی پر فضائی حملے کر رہا ہے۔ افغان میڈیا کی جانب سے پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو دوبارہ شئیر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں میں معصوم بچے شہید ہوئے ہیں۔
تاہم ان الزامات کی کوئی آزادانہ اور مستند تصدیق نہیں ہو سکی۔ پاکستانی حکام نے ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کا مکمل احترام کرتا ہے۔ اگر پاکستان کی جانب سے کوئی جارحانہ کارروائی مقصود ہوتی تو وہ مسلسل افغان حکومت سے یہ مطالبہ نہ کرتا کہ وہ خود ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔
پاکستان نے چین سمیت خطے کے دیگر اہم ممالک کے ساتھ مل کر افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے مسئلے کا پرامن اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو موجودہ تصادم جاری ہے، وہ مکمل طور پر ٹی ٹی پی اور گل بہادر گروپ کے درمیان داخلی جھگڑے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کا اس لڑائی میں کوئی کردار نہیں ہے، اور جو الزامات اور خبریں سوشل میڈیا یا افغان میڈیا میں گردش کر رہی ہیں وہ محض ایک منظم پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ہے۔