Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو
    • حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت
    • برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار
    • ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان
    • پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال
    • رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان
    • امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے
    • پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی
    افغانستان

    کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی

    ستمبر 3, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(مبارک علی) افغانستان کے صوبہ کنڑ میں حال ہی میں آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے نے ہزاروں جانیں لیں اور دیہات تباہ کر دیے۔ طالبان نے عالمی امداد کی اپیل کی، لیکن رپورٹس کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ غیر ملکی امداد مانگنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ یہ ہچکچاہٹ ان کے خود انحصاری کے بیانیے اور اسلامی شرعی قانونی جواز سے جُڑی ہے، جو طالبان کی نظریاتی بنیاد ہے۔ اخوندزادہ نے اب تک زلزلے کے متاثرین کے لیے کوئی عوامی ہمدردی یا تعزیت کا پیغام نہیں دیا۔ طالبان کے نظریاتی نقطہ نظر میں، قدرتی آفات کو اکثر "اللہ کی مرضی” سمجھا جاتا ہے، جو ان کی خاموشی کو مذہبی طور پر مستقل بناتا ہے۔

    یہ رویہ طالبان کی وسیع تر عالمی نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سخت نظریاتی نفاذ اور اخلاقی پولیسنگ کو عملی انسانی ضروریات پر ترجیح دی جاتی ہے۔ کنڑ جیسے بحرانوں میں، یہ نکتہ نظر امداد کی فراہمی میں تاخیر یا کمی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے کمزور طبقات مزید خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ 2022 کے پکتیکا زلزلے میں، جہاں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، طالبان نے ابتدائی طور پر عالمی امداد کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی، لیکن بعد میں محدود امداد قبول کی۔ اسی طرح، 2023 کے ہرات زلزلے میں، امدادی ایجنسیوں کو طالبان کی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیوں نے امدادی کوششوں کو متاثر کیا۔

    کنڑ زلزلے کے بعد پاکستان، بھارت، چین، اور برطانیہ سمیت چند ممالک نے امداد کا وعدہ کیا ہے، لیکن امریکی امداد، جو پہلے افغانستان کے لیے سب سے بڑا ذریعہ تھی، 2025 میں تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان کو اس سال 2.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن صرف 30 فیصد فنڈز موصول ہوئے ہیں۔ طالبان کی پالیسیوں، خصوصاً خواتین کے حقوق پر پابندیوں، نے عالمی امداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنی ہے۔

    طالبان کی خود انحصاری کی پالیسی اور نظریاتی سختی انسانی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ کنڑ کے متاثرین کو فوری طبی امداد، خیموں، اور خوراک کی ضرورت ہے، لیکن طالبان کی ہچکچاہٹ اور عالمی امداد پر انحصار کم کرنے کی خواہش سے امدادی عمل متاثر ہو رہا ہے۔ تاریخی طور پر، طالبان کی اسی سوچ نے 1990 کی دہائی میں بھی امدادی کوششوں کو روکا تھا، جب عالمی تنہائی نے افغانستان کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ موجودہ صورتحال میں، طالبان کو نظریاتی سختی سے ہٹ کر عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا اسمبلی: 15 ملازمین کی جعلی ڈگریاں، شوکاز نوٹسز جاری
    Next Article کوئٹہ: بی این پی جلسے کے بعد خودکش حمله، جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ،33 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو

    مارچ 4, 2026

    حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

    مارچ 4, 2026

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو

    مارچ 4, 2026

    حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

    مارچ 4, 2026

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026

    ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان

    مارچ 4, 2026

    پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال

    مارچ 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.