Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جولائی 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 13 حلقوں میں سے 7 کے نتائج مکمل، مسلم لیگ ن 5 اور پیپلز پارٹی 2 پر کامیاب
    • جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
    • بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا
    • پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی شدید مذمت، کشمیر پر مؤقف ایک بار پھر واضح
    • پشاور: پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ مقابلہ، ایک دہشت گرد ہلاک
    • آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ پُرامن ماحول میں جاری، عوام کا جمہوری عمل پر بھرپور اعتماد
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی
    افغانستان

    کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی

    ستمبر 3, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(مبارک علی) افغانستان کے صوبہ کنڑ میں حال ہی میں آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے نے ہزاروں جانیں لیں اور دیہات تباہ کر دیے۔ طالبان نے عالمی امداد کی اپیل کی، لیکن رپورٹس کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ غیر ملکی امداد مانگنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ یہ ہچکچاہٹ ان کے خود انحصاری کے بیانیے اور اسلامی شرعی قانونی جواز سے جُڑی ہے، جو طالبان کی نظریاتی بنیاد ہے۔ اخوندزادہ نے اب تک زلزلے کے متاثرین کے لیے کوئی عوامی ہمدردی یا تعزیت کا پیغام نہیں دیا۔ طالبان کے نظریاتی نقطہ نظر میں، قدرتی آفات کو اکثر "اللہ کی مرضی” سمجھا جاتا ہے، جو ان کی خاموشی کو مذہبی طور پر مستقل بناتا ہے۔

    یہ رویہ طالبان کی وسیع تر عالمی نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سخت نظریاتی نفاذ اور اخلاقی پولیسنگ کو عملی انسانی ضروریات پر ترجیح دی جاتی ہے۔ کنڑ جیسے بحرانوں میں، یہ نکتہ نظر امداد کی فراہمی میں تاخیر یا کمی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے کمزور طبقات مزید خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ 2022 کے پکتیکا زلزلے میں، جہاں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، طالبان نے ابتدائی طور پر عالمی امداد کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی، لیکن بعد میں محدود امداد قبول کی۔ اسی طرح، 2023 کے ہرات زلزلے میں، امدادی ایجنسیوں کو طالبان کی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیوں نے امدادی کوششوں کو متاثر کیا۔

    کنڑ زلزلے کے بعد پاکستان، بھارت، چین، اور برطانیہ سمیت چند ممالک نے امداد کا وعدہ کیا ہے، لیکن امریکی امداد، جو پہلے افغانستان کے لیے سب سے بڑا ذریعہ تھی، 2025 میں تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان کو اس سال 2.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن صرف 30 فیصد فنڈز موصول ہوئے ہیں۔ طالبان کی پالیسیوں، خصوصاً خواتین کے حقوق پر پابندیوں، نے عالمی امداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنی ہے۔

    طالبان کی خود انحصاری کی پالیسی اور نظریاتی سختی انسانی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ کنڑ کے متاثرین کو فوری طبی امداد، خیموں، اور خوراک کی ضرورت ہے، لیکن طالبان کی ہچکچاہٹ اور عالمی امداد پر انحصار کم کرنے کی خواہش سے امدادی عمل متاثر ہو رہا ہے۔ تاریخی طور پر، طالبان کی اسی سوچ نے 1990 کی دہائی میں بھی امدادی کوششوں کو روکا تھا، جب عالمی تنہائی نے افغانستان کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ موجودہ صورتحال میں، طالبان کو نظریاتی سختی سے ہٹ کر عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا اسمبلی: 15 ملازمین کی جعلی ڈگریاں، شوکاز نوٹسز جاری
    Next Article کوئٹہ: بی این پی جلسے کے بعد خودکش حمله، جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ،33 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

    جولائی 27, 2026

    چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات

    جولائی 27, 2026

    بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا

    جولائی 27, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 13 حلقوں میں سے 7 کے نتائج مکمل، مسلم لیگ ن 5 اور پیپلز پارٹی 2 پر کامیاب

    جولائی 27, 2026

    جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

    جولائی 27, 2026

    چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات

    جولائی 27, 2026

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

    جولائی 27, 2026

    بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا

    جولائی 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.