Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک
    • ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر
    • آپریشن غضب للحق، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ، کابل میں ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ
    • تیمرگرہ کے صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ، محمد اسرار پر حملے اور صحافیوں کو دھمکیوں کی شدید مذمت
    • بلوچستان میں امن کے قيام کیلئے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
    • افغان طالبان حکومت کے ڈپٹی ترجمان کا بیان اپنی ہولناک کارروائیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے: وزارت اطلاعات
    • پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی کی صورتحال تسلی بخش، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی
    افغانستان

    کنڑ زلزلہ اور عالمی امداد: طالبان کی نام نہاد خود انحصاری خودساختہ شرعی جواز اور نظریاتی ترجیحات، تحریر:مبارک علی

    ستمبر 3, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(مبارک علی) افغانستان کے صوبہ کنڑ میں حال ہی میں آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے نے ہزاروں جانیں لیں اور دیہات تباہ کر دیے۔ طالبان نے عالمی امداد کی اپیل کی، لیکن رپورٹس کے مطابق، طالبان کے سپریم لیڈر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ غیر ملکی امداد مانگنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ یہ ہچکچاہٹ ان کے خود انحصاری کے بیانیے اور اسلامی شرعی قانونی جواز سے جُڑی ہے، جو طالبان کی نظریاتی بنیاد ہے۔ اخوندزادہ نے اب تک زلزلے کے متاثرین کے لیے کوئی عوامی ہمدردی یا تعزیت کا پیغام نہیں دیا۔ طالبان کے نظریاتی نقطہ نظر میں، قدرتی آفات کو اکثر "اللہ کی مرضی” سمجھا جاتا ہے، جو ان کی خاموشی کو مذہبی طور پر مستقل بناتا ہے۔

    یہ رویہ طالبان کی وسیع تر عالمی نظریے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سخت نظریاتی نفاذ اور اخلاقی پولیسنگ کو عملی انسانی ضروریات پر ترجیح دی جاتی ہے۔ کنڑ جیسے بحرانوں میں، یہ نکتہ نظر امداد کی فراہمی میں تاخیر یا کمی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے کمزور طبقات مزید خطرات سے دوچار ہوتی ہیں۔ 2022 کے پکتیکا زلزلے میں، جہاں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، طالبان نے ابتدائی طور پر عالمی امداد کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی، لیکن بعد میں محدود امداد قبول کی۔ اسی طرح، 2023 کے ہرات زلزلے میں، امدادی ایجنسیوں کو طالبان کی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیوں نے امدادی کوششوں کو متاثر کیا۔

    کنڑ زلزلے کے بعد پاکستان، بھارت، چین، اور برطانیہ سمیت چند ممالک نے امداد کا وعدہ کیا ہے، لیکن امریکی امداد، جو پہلے افغانستان کے لیے سب سے بڑا ذریعہ تھی، 2025 میں تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، افغانستان کو اس سال 2.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن صرف 30 فیصد فنڈز موصول ہوئے ہیں۔ طالبان کی پالیسیوں، خصوصاً خواتین کے حقوق پر پابندیوں، نے عالمی امداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنی ہے۔

    طالبان کی خود انحصاری کی پالیسی اور نظریاتی سختی انسانی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ کنڑ کے متاثرین کو فوری طبی امداد، خیموں، اور خوراک کی ضرورت ہے، لیکن طالبان کی ہچکچاہٹ اور عالمی امداد پر انحصار کم کرنے کی خواہش سے امدادی عمل متاثر ہو رہا ہے۔ تاریخی طور پر، طالبان کی اسی سوچ نے 1990 کی دہائی میں بھی امدادی کوششوں کو روکا تھا، جب عالمی تنہائی نے افغانستان کے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ موجودہ صورتحال میں، طالبان کو نظریاتی سختی سے ہٹ کر عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر پختونخوا اسمبلی: 15 ملازمین کی جعلی ڈگریاں، شوکاز نوٹسز جاری
    Next Article کوئٹہ: بی این پی جلسے کے بعد خودکش حمله، جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی ،33 زخمی
    Web Desk

    Related Posts

    افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 17, 2026

    کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک

    مارچ 17, 2026

    ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر

    مارچ 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 17, 2026

    کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک

    مارچ 17, 2026

    ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر

    مارچ 17, 2026

    آپریشن غضب للحق، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ، کابل میں ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ

    مارچ 16, 2026

    تیمرگرہ کے صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ، محمد اسرار پر حملے اور صحافیوں کو دھمکیوں کی شدید مذمت

    مارچ 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.