Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • صدر مملکت آصف علی زرداری نے فنانس بل 27-2026 کی منظوری دے دی
    • جنوبی وزیرستان: سراروغہ میں اغواء ہونے والے ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار بخیریت رہا
    • استنبول میں اعلیٰ سطح اجلاس: ترکیہ پاکستان کو توانائی بحران سے نمٹنے کیلیے مدد فراہم کرے گا
    • پاکستان کو معاشی طاقت بنائیں گے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
    • درآمدی ڈیوٹیز میں بڑی کمی: حکومت کا معاشی سرگرمیاں بڑھانے کیلیے اہم فیصلہ
    • وزیراعظم شہبازشریف اور امیرِ قطر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر مبارکباد
    • گلگت بلتستان میں کے-6 چوٹی پر برفانی تودہ گرنے سے فرانسیسی کوہ پیما جاں بحق
    • صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا وینزویلا زلزلے میں جانی نقصان پر اظہارِ افسوس
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟
    بلاگ

    خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟

    جنوری 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Policies in the name of women, what is the benefit?
    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں خواتین کے حقوق اور فلاح کے نام پر پالیسیاں بنانا اب ایک روایت بن چکا ہے، ہر نئی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے کرتی ہے، منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے، سیمینارز ہوتے ہیں اور رپورٹس شائع کی جاتی ہیں۔،یہاں  سوال یہ ہے کہ ان پالیسیوں سے فائدہ واقعی عام پاکستانی عورت کو ہو رہا ہے یا صرف فائلوں اور تقاریر تک محدود ہے؟

    اگر تعلیم کی بات کی جائے تو اعداد و شمار ترقی دکھاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔، آج بھی دیہی علاقوں میں لاکھوں بچیاں غربت، سماجی دباؤ اور سہولیات کی کمی کے باعث اسکول سے باہر ہیں، پالیسیاں موجود ہیں، مگر اساتذہ نہیں،  عمارتیں ہیں، مگر تحفظ نہیں۔،نتیجتاً تعلیم کا خواب کاغذوں میں تو زندہ ہے، عملی زندگی میں نہیں۔

    خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین کی کمی نہیں ہیں ،   ہراسانی، گھریلو تشدد اور جبری شادی کے خلاف قانون سازی کی جا چکی ہے، لیکن انصاف کا حصول آج بھی ایک مشکل سفر ہے، تھانے، عدالتیں اور سماجی رویے خواتین کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر قانون پر عمل نہ ہو تو اس کی موجودگی کس کام کی؟

    معاشی بااختیاری کے نام پر امدادی پروگرام ضرور متعارف کروائے گئے ہیں، مگر یہ امداد خواتین کو خودمختار بنانے کے بجائے انہیں مستقل محتاجی کی طرف دھکیل رہی ہے، ہنر، روزگار اور باعزت مواقع فراہم کرنے کے بجائے وقتی مالی سہولت کو کامیابی قرار دینا پالیسی سازوں کی محدود سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں،یہاں  ماں اور بچے کی صحت کے منصوبے موجود ہیں، مگر دیہی علاقوں میں خواتین آج بھی بنیادی طبی سہولت سے محروم ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار قابلِ تحسین ہے، مگر وسائل اور حکومتی توجہ کی کمی ان کی کارکردگی کو محدود کر دیتی ہے۔

    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں، جبکہ عام عورت جو کھیتوں میں کام کرتی ہے، گھروں میں مزدوری کرتی ہے یا کم اجرت پر فیکٹریوں میں محنت کرتی ہےان اقدامات سے محروم رہتی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کے مسائل کو محض نعروں اور پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رکھا جائے۔،اصل ضرورت مؤثر عمل درآمد، سماجی رویوں میں تبدیلی اور عام عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی ہے۔، جب تک پالیسیاں طاقتور طبقے کے بجائے عام خواتین کے لیے نہیں بنیں گی، اس وقت تک یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا:

    خواتین کے نام پر پالیسیاں، مگر فائدہ کسے؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایف سی ملازم سمیت دو افراد جاں بحق، متعدد زخمی
    Next Article چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے فنانس بل 27-2026 کی منظوری دے دی

    جون 25, 2026

    جنوبی وزیرستان: سراروغہ میں اغواء ہونے والے ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار بخیریت رہا

    جون 25, 2026

    وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ، کئی عمارتیں زمین بوس، ہزاروں افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کا خدشہ

    جون 25, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے فنانس بل 27-2026 کی منظوری دے دی

    جون 25, 2026

    جنوبی وزیرستان: سراروغہ میں اغواء ہونے والے ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار بخیریت رہا

    جون 25, 2026

    استنبول میں اعلیٰ سطح اجلاس: ترکیہ پاکستان کو توانائی بحران سے نمٹنے کیلیے مدد فراہم کرے گا

    جون 25, 2026

    پاکستان کو معاشی طاقت بنائیں گے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    جون 25, 2026

    درآمدی ڈیوٹیز میں بڑی کمی: حکومت کا معاشی سرگرمیاں بڑھانے کیلیے اہم فیصلہ

    جون 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.