Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟
    بلاگ جنوری 23, 2026

    خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟

    Facebook Twitter Email
    Policies in the name of women, what is the benefit?
    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں خواتین کے حقوق اور فلاح کے نام پر پالیسیاں بنانا اب ایک روایت بن چکا ہے، ہر نئی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے کرتی ہے، منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے، سیمینارز ہوتے ہیں اور رپورٹس شائع کی جاتی ہیں۔،یہاں  سوال یہ ہے کہ ان پالیسیوں سے فائدہ واقعی عام پاکستانی عورت کو ہو رہا ہے یا صرف فائلوں اور تقاریر تک محدود ہے؟

    اگر تعلیم کی بات کی جائے تو اعداد و شمار ترقی دکھاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔، آج بھی دیہی علاقوں میں لاکھوں بچیاں غربت، سماجی دباؤ اور سہولیات کی کمی کے باعث اسکول سے باہر ہیں، پالیسیاں موجود ہیں، مگر اساتذہ نہیں،  عمارتیں ہیں، مگر تحفظ نہیں۔،نتیجتاً تعلیم کا خواب کاغذوں میں تو زندہ ہے، عملی زندگی میں نہیں۔

    خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین کی کمی نہیں ہیں ،   ہراسانی، گھریلو تشدد اور جبری شادی کے خلاف قانون سازی کی جا چکی ہے، لیکن انصاف کا حصول آج بھی ایک مشکل سفر ہے، تھانے، عدالتیں اور سماجی رویے خواتین کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر قانون پر عمل نہ ہو تو اس کی موجودگی کس کام کی؟

    معاشی بااختیاری کے نام پر امدادی پروگرام ضرور متعارف کروائے گئے ہیں، مگر یہ امداد خواتین کو خودمختار بنانے کے بجائے انہیں مستقل محتاجی کی طرف دھکیل رہی ہے، ہنر، روزگار اور باعزت مواقع فراہم کرنے کے بجائے وقتی مالی سہولت کو کامیابی قرار دینا پالیسی سازوں کی محدود سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں،یہاں  ماں اور بچے کی صحت کے منصوبے موجود ہیں، مگر دیہی علاقوں میں خواتین آج بھی بنیادی طبی سہولت سے محروم ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار قابلِ تحسین ہے، مگر وسائل اور حکومتی توجہ کی کمی ان کی کارکردگی کو محدود کر دیتی ہے۔

    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں، جبکہ عام عورت جو کھیتوں میں کام کرتی ہے، گھروں میں مزدوری کرتی ہے یا کم اجرت پر فیکٹریوں میں محنت کرتی ہےان اقدامات سے محروم رہتی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کے مسائل کو محض نعروں اور پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رکھا جائے۔،اصل ضرورت مؤثر عمل درآمد، سماجی رویوں میں تبدیلی اور عام عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی ہے۔، جب تک پالیسیاں طاقتور طبقے کے بجائے عام خواتین کے لیے نہیں بنیں گی، اس وقت تک یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا:

    خواتین کے نام پر پالیسیاں، مگر فائدہ کسے؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایف سی ملازم سمیت دو افراد جاں بحق، متعدد زخمی
    Next Article چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پشاور میں وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، صوبہ میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق

    اکتوبر 22, 2026

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کے نرخ میں فی لٹر اضافہ کردیا

    اکتوبر 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.