Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اپریل 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اور مالی حکمتِ عملی پر وزیرِ خزانہ کا اہم بیان
    • روسی وزارت خارجہ کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں اور پاکستان کے کردار کو سراہا گیا
    • ایران امریکہ مذاکرات صورتحال کو بہتر کرنے کی سمت میں مثبت قدم ہیں، چینی وزارت خارجہ
    • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،ریٹنگ برقرار، آؤٹ لک مستحکم: فچ ریٹنگز
    • امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے لیے پُرامید ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
    • چین نے امریکی صدر کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کی مخالفت کر دی
    • نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے پاکستان میں مقیم چینی سفیر کی ملاقات، اسلام آباد مذاکرات کے بعد کی پیشرفت پر تبادلہ خیال
    • وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جاپانی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟
    بلاگ

    خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟

    جنوری 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Policies in the name of women, what is the benefit?
    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان میں خواتین کے حقوق اور فلاح کے نام پر پالیسیاں بنانا اب ایک روایت بن چکا ہے، ہر نئی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے دعوے کرتی ہے، منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے، سیمینارز ہوتے ہیں اور رپورٹس شائع کی جاتی ہیں۔،یہاں  سوال یہ ہے کہ ان پالیسیوں سے فائدہ واقعی عام پاکستانی عورت کو ہو رہا ہے یا صرف فائلوں اور تقاریر تک محدود ہے؟

    اگر تعلیم کی بات کی جائے تو اعداد و شمار ترقی دکھاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔، آج بھی دیہی علاقوں میں لاکھوں بچیاں غربت، سماجی دباؤ اور سہولیات کی کمی کے باعث اسکول سے باہر ہیں، پالیسیاں موجود ہیں، مگر اساتذہ نہیں،  عمارتیں ہیں، مگر تحفظ نہیں۔،نتیجتاً تعلیم کا خواب کاغذوں میں تو زندہ ہے، عملی زندگی میں نہیں۔

    خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین کی کمی نہیں ہیں ،   ہراسانی، گھریلو تشدد اور جبری شادی کے خلاف قانون سازی کی جا چکی ہے، لیکن انصاف کا حصول آج بھی ایک مشکل سفر ہے، تھانے، عدالتیں اور سماجی رویے خواتین کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر قانون پر عمل نہ ہو تو اس کی موجودگی کس کام کی؟

    معاشی بااختیاری کے نام پر امدادی پروگرام ضرور متعارف کروائے گئے ہیں، مگر یہ امداد خواتین کو خودمختار بنانے کے بجائے انہیں مستقل محتاجی کی طرف دھکیل رہی ہے، ہنر، روزگار اور باعزت مواقع فراہم کرنے کے بجائے وقتی مالی سہولت کو کامیابی قرار دینا پالیسی سازوں کی محدود سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں،یہاں  ماں اور بچے کی صحت کے منصوبے موجود ہیں، مگر دیہی علاقوں میں خواتین آج بھی بنیادی طبی سہولت سے محروم ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کردار قابلِ تحسین ہے، مگر وسائل اور حکومتی توجہ کی کمی ان کی کارکردگی کو محدود کر دیتی ہے۔

    حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر بننے والی بیشتر پالیسیاں اشرافیہ کی خواتین تک محدود رہتی ہیں، جبکہ عام عورت جو کھیتوں میں کام کرتی ہے، گھروں میں مزدوری کرتی ہے یا کم اجرت پر فیکٹریوں میں محنت کرتی ہےان اقدامات سے محروم رہتی ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین کے مسائل کو محض نعروں اور پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رکھا جائے۔،اصل ضرورت مؤثر عمل درآمد، سماجی رویوں میں تبدیلی اور عام عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی ہے۔، جب تک پالیسیاں طاقتور طبقے کے بجائے عام خواتین کے لیے نہیں بنیں گی، اس وقت تک یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا:

    خواتین کے نام پر پالیسیاں، مگر فائدہ کسے؟

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایف سی ملازم سمیت دو افراد جاں بحق، متعدد زخمی
    Next Article چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اور مالی حکمتِ عملی پر وزیرِ خزانہ کا اہم بیان

    اپریل 14, 2026

    امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے لیے پُرامید ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

    اپریل 13, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اور مالی حکمتِ عملی پر وزیرِ خزانہ کا اہم بیان

    اپریل 14, 2026

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں اور پاکستان کے کردار کو سراہا گیا

    اپریل 13, 2026

    ایران امریکہ مذاکرات صورتحال کو بہتر کرنے کی سمت میں مثبت قدم ہیں، چینی وزارت خارجہ

    اپریل 13, 2026

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،ریٹنگ برقرار، آؤٹ لک مستحکم: فچ ریٹنگز

    اپریل 13, 2026

    امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے لیے پُرامید ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

    اپریل 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.