Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ
    • بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار
    • گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت
    • پشاور سکول سانحہ: ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال
    • سی پیک مغربی روٹ: بلوچستان میں 310 ارب کے منصوبے، 718 کلومیٹر شاہراہوں پر پیشرفت
    • انٹیلی جنس رپورٹ: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد احتجاجی سرگرمیاں محدود رہیں
    • سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک
    • امریکی سفارتخانے کی ناظم الاُمور نیٹلی اے بیکر کی جانب سے پشاور سانحہ پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    بلاگ جنوری 22, 2026

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    Facebook Twitter Email
    Regulatory reforms as a means of strengthening state authority
    مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    وطن عزیز میں ضابطہ جاتی اصلاحات کو طویل عرصے سے بیرونی دباؤ خصوصاً یورپی مطالبات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے, جب یورپی سرمایہ کار پیش گوئی، ٹیکس نظام یا قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے قومی خودمختاری کے خلاف مداخلت قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ضابطہ جاتی اصلاحات کسی کے سامنے جھکنے کا عمل نہیں بلکہ ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں ۔

    یورپی یونین پاکستان بزنس فورم 2026 اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یورپی سرمایہ کاری کی راہ میں اصل رکاوٹ دلچسپی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، قوانین موجود ہیں مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں، پالیسیاں اعلان کے بعد تبدیل ہو جاتی ہیں، مراعات دی جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے واپس لے لی جاتی ہیں، یہ مسائل کسی بیرونی طاقت کی پیداوار نہیں بلکہ ہمارے اپنے نظامِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں اور جب تک یہ کمزوریاں دور نہیں ہونگی ملک کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

    ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی نظام ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، جب قوانین مستقل ہوں تو سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں، صنعتیں فروغ پاتی ہیں اور ٹیکس وصولی دباؤ کے بجائے نظام کے تحت ہوتی ہے، جس سے ریاستی عملداری متاثر ہوتی ہے ۔

    اکثر اصلاحات کی مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ سٹریٹجک خودمختاری کے خلاف ہیں، مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔

    یورپی یونین کی جانب سے ضابطہ جاتی وضاحت کا مطالبہ کسی شرط کے مترادف نہیں بلکہ ایک جانچ کا پیمانہ ہے، یورپی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان اپنی پالیسیوں اور وعدوں پر قائم رہ سکتا ہے، اگر ریاست تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتی تو معاشی خودمختاری کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔

    پاکستان کو اگر قیاس آرائی کے بجائے دیرپا سرمایہ کاری درکار ہے تو اصلاحات کو بیرونی دباؤ نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر اپنانا ہوگا، یہی ریاستی وقار اور خودمختاری کی اصل بنیاد ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleصدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    Next Article عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    webdesk

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ

    اکتوبر 15, 2026

    بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار

    اکتوبر 15, 2026

    گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت

    اکتوبر 15, 2026

    پشاور سکول سانحہ: ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال

    اکتوبر 15, 2026

    سی پیک مغربی روٹ: بلوچستان میں 310 ارب کے منصوبے، 718 کلومیٹر شاہراہوں پر پیشرفت

    اکتوبر 15, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.