Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مئی 18, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر نیٹ ورک اور اقراء یونیورسٹی کا میڈیا انڈسٹری اور اکیڈمیہ کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے اہم مشاورتی اجلاس، ‘ایٹم’ (ATOM) کونسل کے قیام پر اتفاق
    • پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت
    • جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، پاور ڈویژن
    • نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال
    • وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی
    • ملک کے 79 مخصوص اضلاع میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم کا آغاز ہوگیا
    • حج 2026: پاکستانی حجاج کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، سردار محمد یوسف
    • وزیراعظم کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کا جائزہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    بلاگ

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    جنوری 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Regulatory reforms as a means of strengthening state authority
    مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    وطن عزیز میں ضابطہ جاتی اصلاحات کو طویل عرصے سے بیرونی دباؤ خصوصاً یورپی مطالبات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے, جب یورپی سرمایہ کار پیش گوئی، ٹیکس نظام یا قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے قومی خودمختاری کے خلاف مداخلت قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ضابطہ جاتی اصلاحات کسی کے سامنے جھکنے کا عمل نہیں بلکہ ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں ۔

    یورپی یونین پاکستان بزنس فورم 2026 اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یورپی سرمایہ کاری کی راہ میں اصل رکاوٹ دلچسپی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، قوانین موجود ہیں مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں، پالیسیاں اعلان کے بعد تبدیل ہو جاتی ہیں، مراعات دی جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے واپس لے لی جاتی ہیں، یہ مسائل کسی بیرونی طاقت کی پیداوار نہیں بلکہ ہمارے اپنے نظامِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں اور جب تک یہ کمزوریاں دور نہیں ہونگی ملک کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

    ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی نظام ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، جب قوانین مستقل ہوں تو سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں، صنعتیں فروغ پاتی ہیں اور ٹیکس وصولی دباؤ کے بجائے نظام کے تحت ہوتی ہے، جس سے ریاستی عملداری متاثر ہوتی ہے ۔

    اکثر اصلاحات کی مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ سٹریٹجک خودمختاری کے خلاف ہیں، مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔

    یورپی یونین کی جانب سے ضابطہ جاتی وضاحت کا مطالبہ کسی شرط کے مترادف نہیں بلکہ ایک جانچ کا پیمانہ ہے، یورپی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان اپنی پالیسیوں اور وعدوں پر قائم رہ سکتا ہے، اگر ریاست تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتی تو معاشی خودمختاری کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔

    پاکستان کو اگر قیاس آرائی کے بجائے دیرپا سرمایہ کاری درکار ہے تو اصلاحات کو بیرونی دباؤ نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر اپنانا ہوگا، یہی ریاستی وقار اور خودمختاری کی اصل بنیاد ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleصدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    Next Article عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    webdesk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر نیٹ ورک اور اقراء یونیورسٹی کا میڈیا انڈسٹری اور اکیڈمیہ کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے اہم مشاورتی اجلاس، ‘ایٹم’ (ATOM) کونسل کے قیام پر اتفاق

    مئی 18, 2026

    پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت

    مئی 18, 2026

    جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، پاور ڈویژن

    مئی 18, 2026

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال

    مئی 18, 2026

    وفاقی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی

    مئی 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.