Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پنجگور میں خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک
    • بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ
    • پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
    • راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک
    • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا
    • حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے، وزیراعظم شہبازشریف
    • بنوں: ایک اور پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا شکار، تین روز میں 3 اہلکار شہید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    بلاگ جنوری 22, 2026

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    Facebook Twitter Email
    Regulatory reforms as a means of strengthening state authority
    مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    وطن عزیز میں ضابطہ جاتی اصلاحات کو طویل عرصے سے بیرونی دباؤ خصوصاً یورپی مطالبات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے, جب یورپی سرمایہ کار پیش گوئی، ٹیکس نظام یا قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے قومی خودمختاری کے خلاف مداخلت قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ضابطہ جاتی اصلاحات کسی کے سامنے جھکنے کا عمل نہیں بلکہ ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں ۔

    یورپی یونین پاکستان بزنس فورم 2026 اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یورپی سرمایہ کاری کی راہ میں اصل رکاوٹ دلچسپی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، قوانین موجود ہیں مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں، پالیسیاں اعلان کے بعد تبدیل ہو جاتی ہیں، مراعات دی جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے واپس لے لی جاتی ہیں، یہ مسائل کسی بیرونی طاقت کی پیداوار نہیں بلکہ ہمارے اپنے نظامِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں اور جب تک یہ کمزوریاں دور نہیں ہونگی ملک کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

    ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی نظام ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، جب قوانین مستقل ہوں تو سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں، صنعتیں فروغ پاتی ہیں اور ٹیکس وصولی دباؤ کے بجائے نظام کے تحت ہوتی ہے، جس سے ریاستی عملداری متاثر ہوتی ہے ۔

    اکثر اصلاحات کی مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ سٹریٹجک خودمختاری کے خلاف ہیں، مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔

    یورپی یونین کی جانب سے ضابطہ جاتی وضاحت کا مطالبہ کسی شرط کے مترادف نہیں بلکہ ایک جانچ کا پیمانہ ہے، یورپی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان اپنی پالیسیوں اور وعدوں پر قائم رہ سکتا ہے، اگر ریاست تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتی تو معاشی خودمختاری کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔

    پاکستان کو اگر قیاس آرائی کے بجائے دیرپا سرمایہ کاری درکار ہے تو اصلاحات کو بیرونی دباؤ نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر اپنانا ہوگا، یہی ریاستی وقار اور خودمختاری کی اصل بنیاد ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleصدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    Next Article عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    webdesk

    Related Posts

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پنجگور میں خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک

    اگست 11, 2026

    بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ

    اگست 11, 2026

    پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    اگست 11, 2026

    راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک

    اگست 11, 2026

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    اگست 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.