Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    بلاگ جنوری 22, 2026

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    Facebook Twitter Email
    Regulatory reforms as a means of strengthening state authority
    مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    وطن عزیز میں ضابطہ جاتی اصلاحات کو طویل عرصے سے بیرونی دباؤ خصوصاً یورپی مطالبات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے, جب یورپی سرمایہ کار پیش گوئی، ٹیکس نظام یا قوانین کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے قومی خودمختاری کے خلاف مداخلت قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ضابطہ جاتی اصلاحات کسی کے سامنے جھکنے کا عمل نہیں بلکہ ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں ۔

    یورپی یونین پاکستان بزنس فورم 2026 اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یورپی سرمایہ کاری کی راہ میں اصل رکاوٹ دلچسپی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، قوانین موجود ہیں مگر ان کا اطلاق یکساں نہیں، پالیسیاں اعلان کے بعد تبدیل ہو جاتی ہیں، مراعات دی جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے واپس لے لی جاتی ہیں، یہ مسائل کسی بیرونی طاقت کی پیداوار نہیں بلکہ ہمارے اپنے نظامِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں اور جب تک یہ کمزوریاں دور نہیں ہونگی ملک کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

    ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی نظام ریاست کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، جب قوانین مستقل ہوں تو سرمایہ کار طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں، صنعتیں فروغ پاتی ہیں اور ٹیکس وصولی دباؤ کے بجائے نظام کے تحت ہوتی ہے، جس سے ریاستی عملداری متاثر ہوتی ہے ۔

    اکثر اصلاحات کی مخالفت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ سٹریٹجک خودمختاری کے خلاف ہیں، مضبوط ریاستیں شخصی فیصلوں کے بجائے اداروں اور مستقل پالیسیوں کے ذریعے اپنا اختیار قائم رکھتی ہیں ۔

    یورپی یونین کی جانب سے ضابطہ جاتی وضاحت کا مطالبہ کسی شرط کے مترادف نہیں بلکہ ایک جانچ کا پیمانہ ہے، یورپی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان اپنی پالیسیوں اور وعدوں پر قائم رہ سکتا ہے، اگر ریاست تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتی تو معاشی خودمختاری کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جاتا ہے ۔

    پاکستان کو اگر قیاس آرائی کے بجائے دیرپا سرمایہ کاری درکار ہے تو اصلاحات کو بیرونی دباؤ نہیں بلکہ قومی ضرورت کے طور پر اپنانا ہوگا، یہی ریاستی وقار اور خودمختاری کی اصل بنیاد ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleصدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    Next Article عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    webdesk

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.