Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    بلاگ جنوری 22, 2026

    عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی

    Facebook Twitter Email
    Imran Khan's government: Rule of slogans, practical failure
    ساڑھے تین برس سے زائد کی حکمرانی نے ثابت کر دیا کہ محض مقبولیت، جذباتی تقریریں اور الزام تراشی ریاست چلانے کے لیے کافی نہیں ہوتیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    عمران خان 2018 میں جس تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے، وہ پاکستانی سیاست کی تاریخ میں شاید سب سے زیادہ فروخت ہونے اور  نہ پوارا ہونے  والا خواب تھا، کرپشن کے خاتمے، ریاستِ مدینہ، خودداری اور انصاف کے بلند دعوے کیے گئے، مگر اقتدار ملنے کے بعد یہ تمام نعرے عملی سیاست کی بھٹی میں جل کر راکھ ہو گئے۔ ساڑھے تین برس سے زائد کی حکمرانی نے ثابت کر دیا کہ محض مقبولیت، جذباتی تقریریں اور الزام تراشی ریاست چلانے کے لیے کافی نہیں ہوتیں ۔

    عمران خان کی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی گورننس گورننس کی وہ خامیان تھیں جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئیں، نا تجربہ کار وزراء، مسلسل بدلتی کابینہ، الجھی ہوئی بیوروکریسی اور وزیرِ اعظم ہاؤس سے نکلنے والے متضاد بیانات نے ریاستی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا، فیصلے جذبات میں کیے گئے اور چند دن بعد واپس لیے گئے، ملک ایسے چلایا گیا جیسے احتجاجی تحریک ہو، کوئی سنجیدہ ریاست نہیں ۔

    معاشی میدان میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین رہی۔ مہنگائی نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے، روپے کی قدر تیزی سے گری، بجلی، گیس اور پٹرول عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئے(اور اگر اس دور میں بہتری تھی بھی تو وہ عارضی تھی جس کا خمیازہ آج بھی قوم بھگت رہی ہے)۔ وہ حکومت جو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے دعوے کرتی تھی،خود عمران خان اگست 2014 میں  شروع ہونے والے اسلام آباد کے طویل دھرنے میں روز کنٹینر پر چڑھ کر جو تقریریں کی جاتی تھیں، جب وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے تو وہ سارے دعوے اور وعدے ایسے غائب ہوگئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ، معیشت کو سنبھالنے کے بجائے تجربات کی تجربہ گاہ بنا دیا گیا، جہاں ناکامی کی قیمت عوام نے ادا کی اور آج بھی ادا کر رہی ہے ۔

    احتساب کے نام پر جو کچھ ہوا، وہ انصاف نہیں بلکہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال بن گیا،چیئرمین نیب جاوید اقبال کے کندھے پر بندوق رکھ کر مخالف جماعتوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ،وہ تحریک انصاف کے کمزور حافظے کے مالک کارکن بھول سکتے ہیں ،بھلا ہم کیسے بھول سکتے ہیں ، اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا گیا، میڈیا پر دباؤ بڑھایا گیا، مگر حکومتی صفوں میں موجود بدعنوان عناصر مکمل تحفظ کے ساتھ اقتدار کے مزے لیتے رہے، اس دور میں احتساب ایک تماشہ بن گیا، جس کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ مخالفین کو کچلنا تھا ۔

    خارجہ پالیسی بھی دعووں اور حقیقت کے درمیان معلق رہی۔ بلند و بانگ بیانات دیے گئے، مگر سفارتی محاذ پر پاکستان تنہائی کا شکار رہا، ہمسایہ ممالک سے تعلقات کشیدہ رہے اور عالمی سطح پر پاکستان ایک غیر یقینی اور غیر سنجیدہ ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا ۔

    سیاسی سطح پر عمران خان نے ملک کو بدترین تقسیم سے دوچار کیا۔ اپوزیشن کو دشمن، ناقدین کو غدار اور اختلافِ رائے کو سازش قرار دیا گیا۔ پارلیمان کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور جمہوری رویوں کو کمزوری سمجھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نظام مزید کمزور اور سیاست مزید تلخ ہو گئی ۔

    سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ عمران خان اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے ہمیشہ کسی نہ کسی اور کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے،کبھی سابقہ حکومتیں، کبھی بیوروکریسی، کبھی ادارے اور کبھی عالمی سازشیں۔ مگر ایک حقیقت سے فرار ممکن نہیں: اقتدار میں رہتے ہوئے ذمہ داری صرف حکومت کی ہوتی ہے، بہانوں کی نہیں ۔

    عمران خان کی حکومت تبدیلی نہیں لا سکی، بلکہ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ نعرے، ضد اور انا اگر حکمت، برداشت اور اہلیت کی جگہ لے لیں تو نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلتا ہے، یہ دور پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ایک ضائع شدہ موقع، ایک ناکام تجربہ اور ایک تلخ سبق کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔

    اگر پی ڈی ایم وقت پر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش نہ کرتی تو جو منصوبے ملکی تباہی کیلئے بنائے گئئے تھے اس کے بعد شائد حالات اس نہج پر پہنچ جاتے کہ خدا کی پناہ، آج گو کہ عوام کے حالات مکمل نہیں سنبھلے ہیں لیکن ایک امید ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی  موجودگی میں ملک جلد تمام خامیوں پر قابو پالے گا اور وہ دن دور نہیں جب ملک وقوم کی معاشی حالت بھی مزید بہتر ہو جائے گی ۔

    مثالیں دینے کیلئے یہ کافی ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں کیا ہو رہا ہے اور دیگر صوبے آج کہاں سے کہاں پہنچ گئے ؟ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا صرف ایک ہی کام اور موٹو ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، باقی صوبہ جائے بھاڑ میں ، اسی لئے تو اب خیبر پختونخوا میں بھی لوگ پی ٹی آئی سے بدظن ہو رہے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    Next Article نو مئی کلب چوک جی او آر گیٹ حملہ کیس: حماد اظہر سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار
    webdesk

    Related Posts

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.