صبح کی سیر: افادیت سے توبہ
(جی ایم قریشی)
بچپن سے ہم نے سکول اور کالج کے ہر امتحان میں ایک مضمون "صبح کی سیر کی افادیت” ضرور رٹا تھا۔ اس وقت ہم بڑے شوق سے لکھتے تھے کہ "صبح کی سیر کے لیے اٹھنا صحت کے لیے بے حد مفید ہے” اور "تندرستی ہزار نعمت ہے”۔ تب کیا معلوم تھا کہ کتابی باتیں اور زمینی حقائق میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ ایک معصوم طالب علم اور ایک منجھے ہوئے سیاستدان میں ہوتا ہے۔ پچھلے اتوار ہم نے بھی اسی "افادیت” کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا۔
صبح پانچ بجے جب الارم بجا تو لگا کسی نے کان میں بم پھوڑ دیا ہے۔ باہر شدید سردی اور بارش کا زور ایسا تھا جیسے بادلوں نے آج ہی سارا حساب برابر کرنا ہو۔ ہم نے نہا دھو کر (جو کہ اس موسم میں کسی خودکش حملے سے کم نہ تھا) اپنا "خاص لباس” زیب تن کیا۔ یہ لباس کم اور "رِزقِ خاکستری” زیادہ لگ رہا تھا۔ تین سویٹر، دو جیکٹیں اور سر پر مفلر کا ایسا پیوند لگا تھا کہ میں خود کو آئینے میں دیکھ کر پہچان نہ سکا؛ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی خلائی مخلوق غلطی سے زمین پر اتر آئی ہے جو بارش سے بچنے کے لیے شاپر بھی اوڑھے ہوئے ہے۔
کالج کے مضمون میں لکھا تھا کہ "پرندے چہچہا رہے ہوں گے”، مگر یہاں گلی میں نکلتے ہی صرف کتے بھونک رہے تھے جو شاید میرے اس عجوبہ لباس کو دیکھ کر صدمے میں آگئے تھے۔ استقبال "دھول اور کیچڑ” کے ایک حسین سنگم نے کیا۔ ہماری گلیوں کا حال یہ ہے کہ یہاں کی دھول میں وہ وفاداری ہے جو کتے میں بھی نہیں ہوتی؛ ایک بار کپڑوں سے چمٹ جائے تو قبر تک ساتھ نبھاتی ہے۔ بارش نے اس دھول کو ایسا "چاکلیٹی حلوہ” بنا دیا تھا کہ ہر قدم پر پھسلنے کا ڈر تھا۔ میں نے دل میں سوچا، حکومت شاید ان گلیوں کو "ایڈونچر سپورٹس” کے لیے محفوظ کر رہی ہے۔
کتاب میں پڑھا تھا کہ "نہر کا پانی چاندی کی طرح چمکتا ہے”، مگر یہاں منظر دیدنی تھا۔ نہر کیا تھی، کچرے کا ایک چلتا پھرتا میوزیم تھا! لوگ اتنی عقیدت سے گھر کا کوڑا کرکٹ نہر میں پھینک رہے تھے جیسے کوئی مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہوں۔ پانی کا رنگ ایسا کالا سیاہ تھا کہ اگر اس میں قلم ڈبویا جائے تو پوری کتاب لکھی جا سکتی تھی۔
اسی اثنا میں دیہاڑی دار مزدوروں کا ریلا آیا۔ وہ بیچارے رزق کی تلاش میں اتنی جلدی میں تھے کہ انہیں میرے "شاہی لباس” کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ ایک بھائی صاحب نے ایسا زوردار دھکا دیا کہ میں لہراتا ہوا تقریباً نہر کے قریب جا پہنچا۔ ان کی تیزی دیکھ کر لگا کہ شاید وہ اولمپکس کی تیاری کر رہے ہیں، بس ٹریک کی جگہ ہماری پسلیاں استعمال ہو رہی تھیں۔
کالج کے مضمون کی وہ لائنیں یاد آرہی تھیں کہ "چاروں طرف ہریالی اور سبزہ دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے”۔ میں نے وہاں "گرینری” ڈھونڈی مگر صرف وہ کائی ملی جو گندی دیواروں پر جمی ہوئی تھی۔ جہاں درخت ہونے چاہیے تھے، وہاں بجلی کے کھمبے سینہ تانے کھڑے تھے جن پر تاروں کا جال کسی مکڑی کے بھوتیا گھر جیسا لگ رہا تھا۔ دھوئیں اور گرد و غبار نے آنکھوں میں وہ سوزش پیدا کی کہ میں "صحت” بنانے گیا تھا اور "مریضِ چشم” بن کر رہ گیا۔ دل سے دعا نکلی کہ کاش یہاں کوئی ایک درخت بھی ایسا ہوتا جس کے نیچے کھڑے ہو کر بندہ دو پل سکون کے گزار لیتا۔
ابھی میں ان فلسفیانہ سوچوں میں گم تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار "فرشتے” نمودار ہوئے۔ انہوں نے نہایت تمیز سے (پستول دکھا کر) پوچھا، "بھائی جان، جو کچھ ہے نکال دو۔”
میں نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی جیب سے وہ پرانا موبائل نکالا جس کا بٹن دبانے کے لیے ہتھوڑے کی ضرورت پڑتی تھی، اور ساتھ ہی وہ 500 کا نوٹ جو میں نے واپسی پر گھر کے لیے ناشتے کے لیے رکھا تھا۔
ڈاکو نے میرا موبائل دیکھا، پھر مجھے دیکھا، اور پھر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولا، "اوئے، تو سیر کرنے نکلا ہے یا خیرات مانگنے؟” خیر، انہوں نے غنیمت جانا اور میرا وہ 500 کا نوٹ اور عجائب گھر والا موبائل لے کر نو دو گیارہ ہو گئے۔
میں لٹا پٹا، کیچڑ میں لت پت اور بھوکا پیاسا جب گھر پہنچا تو بیگم نے پوچھا، "کیسی رہی سیر؟ کیا لائے ناشتے میں؟”
میں نے صوفے پر گرتے ہوئے کہا، "ناشتہ تو ڈاکو کر گئے، اور میں اپنی عقل کا علاج کروا آیا ہوں۔”
اسی وقت میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور بلند آواز میں اعلان کیا کہ آج کے بعد "صبح کی سیر” صرف خوابوں میں ہوگی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جتنی ورزش ڈاکوؤں سے بچنے اور کیچڑ میں توازن برقرار رکھنے میں ہو گئی ہے، اتنی تو شاید کسی جم (Gym) میں بھی نہ ہوتی۔ کالج کا وہ مضمون لکھنے والے پر اب مجھے شدید غصہ آ رہا ہے، کاش اس نے "گھر میں سونے کی افادیت” پر بھی کچھ لکھا ہوتا!

