پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ 2024 کو کالعدم قرار دے دیا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا پولیس ترمیمی ایکٹ2024 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت پر 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ رِٹ پٹیشن نمبر 7810 پی آف 2025 پر سنایا ہے جو بیرسٹر محمد یوسف خان بنام حکومتِ خیبر پختونخوا و دیگر کو فریق بناتے ہوئے دائر کی گئی تھی ۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 2024 کی ترامیم کے تحت سینئر پولیس افسران (بی ایس 18 اور اس سے زائد) کی تعیناتیوں کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا پولیس کی پیشہ ورانہ اور عملی خودمختاری کو غیر آئینی طور پر ختم کرنے کے مترادف ہے ۔
عدالت کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں پولیس کو قانون کی بجائے سیاسی مصلحتوں کا آلہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو آئین کے منافی ہے ۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کو پولیس پر صرف محدود نوعیت کی ’نگرانی‘ حاصل ہے، جس کا دائرہ کار پالیسی سازی اور عمومی نگرانی تک محدود ہے ۔
پولیس فورس کے روزمرہ امور، بشمول تقرریاں، تبادلے اور اندرونی انتظامی فیصلے، مکمل طور پر آئی جی پی کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہییں تاکہ کمانڈ کا تسلسل برقرار رہے، نظم و ضبط متاثر نہ ہو اور پولیس قیادت محض علامتی عہدہ بن کر نہ رہ جائے ۔

