خیبرپختونخوا میں جاری احتجاج اور سڑکوں کی بندش نے عام شہریوں کی زندگی شدید متاثر کی ہے، اسلام آباد پشاور موٹروے، جی ٹی روڈ اور سوات ایکسپریس وے کے مختلف مقامات پر احتجاج اور رکاوٹوں کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ۔
بذات خود اس وقت دن 12 بجے جی ٹی روڈ پر سفر کرنے پر مجبور ، راستوں کی بندش کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال اور تاخیر کا سامنا
اسلام آباد اور راولپنڈی کے بس اڈوں پر بھی غیر معمولی رش ہے، پختونخوا جانے والی ٹرانسپورٹ کم اور کرایے زیادہ، مسافروں اور ڈرائیورز کے درمیان تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے، دیگر صوبوں کی ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چل رہی ہے، مگر خیبرپختونخوا کے عوام زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔
پختونخوا میں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ عوامی حمایت حاصل ، اگر یہی صوبہ اس جماعت کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ احتجاج کا بوجھ اپنے ہی لوگوں پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟
سڑکوں کی بندش سے سب سے زیادہ عام شہری، مزدور، مریض اور طلبہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔
احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق لیکن اس کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس سے عوام کم سے کم متاثر ہوں، خان کی صحت اور سیاسی مقاصد اپنی جگہ، مگر عوامی سہولت اور احترام کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔

