Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, ستمبر 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » جب قیادت مفادِ عامہ کو ترجیح دے
    بلاگ فروری 11, 2026

    جب قیادت مفادِ عامہ کو ترجیح دے

    Facebook Twitter Email
    When leadership prioritizes the public interest
    ۔ اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو یہ صوبے کے سیاسی کلچر میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    گزشتہ روز پشاور میں منعقد ہونے والا اجلاس محض ایک رسمی سرکاری سرگرمی نہیں تھا بلکہ یہ اس طرزِ حکمرانی کا عملی اظہار تھا جس میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صوبے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی  گئی،  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قیادت کا اصل امتحان سیاسی نعروں میں نہیں بلکہ مشکل  حالات کے باوجود عوامی مفاد کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتا ہے ۔

    پاکستان کی سیاست میں اکثر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ فیصلے عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی مصلحت کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں، ایسے ماحول میں اگر کوئی رہنما کھل کر یہ پیغام دے کہ اس کے لیے جماعتی وابستگی سے بڑھ کر ملک  کا مفاد اہم ہے تو یہ رویہ نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے ۔

    پشاور کا حالیہ اجلاس اسی سوچ کا آئینہ دار تھا، جہاں اختلافِ رائے کے باوجود مشاورت، ہم آہنگی اور اجتماعی بہتری کو ترجیح دی گئی۔خیبر پختونخوا اس وقت جن چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن میں دہشتگردی سرفہرست ہے ،یہ کسی ایک جماعت یا فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں ۔

    معاشی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، امن و امان کی صورتحال اور عوامی سہولیات کی فراہمی جیسے معاملات سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے حل نہیں ہوتے، ان کے لیے ایسی قیادت درکار ہوتی ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدتی استحکام کو مدنظر رکھے۔ وزیراعلیٰ کا حالیہ مؤقف اسی شعور کی عکاسی کرتا ہے ۔

    اہم بات یہ ہے کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب اختلاف ذاتیات یا محض مخالفت برائے مخالفت کی شکل اختیار کر لے تو نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ پشاور کے اجلاس میں جس سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے یہ پیغام دیا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت اب کی بار  تصادم کے بجائے تعاون کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، یہی وہ طرزِ فکر ہے جو کسی بھی صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ۔

    اس طرزِ حکمرانی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے اداروں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جب بیوروکریسی، منتخب نمائندے اور دیگر سٹیک ہولڈرز یہ دیکھتے ہیں کہ فیصلہ سازی میں سیاسی مفاد کے بجائے عوامی ضرورت کو ترجیح دی جا رہی ہے تو انتظامی مشینری زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتی ہے، یوں پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے درمیان فاصلے کم ہو جاتے ہیں ۔

    سیاسی قیادت کا اصل قد اُس وقت بلند ہوتا ہے جب وہ تنقید کے باوجود درست سمت پر قائم رہے۔ ذاتی یا جماعتی دباؤ سے نکل کر اجتماعی مفاد میں فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر یہی وہ وصف ہے جو ایک عام سیاستدان اور مدبر رہنما میں فرق واضح کرتا ہے ۔

    حالیہ اجلاس نے کم از کم یہ تاثر ضرور مضبوط کیا ہے کہ صوبائی قیادت وسیع تر تناظر میں سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رویے کو وقتی اقدام کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے، اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف سیاسی درجۂ حرارت میں کمی آئے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا ۔

    عوام بالآخر نتائج دیکھنا چاہتے ہیں،روزگار کے مواقع، بہتر تعلیم و صحت کی سہولیات اور امن و استحکام۔ جب قیادت اپنے فیصلوں میں ان ترجیحات کو مقدم رکھتی ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے ۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پشاور کا حالیہ اجلاس محض ایک میٹنگ نہیں بلکہ ایک پیغام تھا،یہ پیغام کہ سیاست اگر وسیع تر مفاد کے لیے کی جائے تو اختلاف کے باوجود اتفاق کی راہیں نکل سکتی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سوچ آنے والے دنوں میں عملی اقدامات کی صورت میں کس حد تک سامنے آتی ہے، اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو یہ صوبے کے سیاسی کلچر میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامام بارگاہ خودکش حملہ، وزیراعظم کا بمبار کو روکنے والے شہری کیلئے 1 کروڑ، شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ امداد دینے کا اعلان
    Next Article بنگلادیش میں جنرل اليکشن کیلئے ووٹنگ ، بی این پی اور جماعت اسلامی میں کانٹےکا مقابلہ متوقع
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.