Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اپریل 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایران اور امریکہ کے درمیان مزید مذاکرات کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
    • فنکاروں کو وزیراعظم صحت کارڈ دیکر بیوقوف بنایا گیا ۔۔ نجیب اللہ انجم
    • امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا
    • عالمی سرفہرست ای کامرس کمپنی علی بابا کی پاکستان میں سرمایہ کاری، لائسنس جاری
    • امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور اس ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان۔ بیک چینل رابطے جاری
    • پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیارہے، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف
    • پاکستان کی جانب سے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش
    • وفاقی وزیر خزانہ کی امریکا میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے سربراہ سے ملاقات
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » جب قیادت مفادِ عامہ کو ترجیح دے
    بلاگ

    جب قیادت مفادِ عامہ کو ترجیح دے

    فروری 11, 2026Updated:فروری 11, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    When leadership prioritizes the public interest
    ۔ اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو یہ صوبے کے سیاسی کلچر میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    گزشتہ روز پشاور میں منعقد ہونے والا اجلاس محض ایک رسمی سرکاری سرگرمی نہیں تھا بلکہ یہ اس طرزِ حکمرانی کا عملی اظہار تھا جس میں ذاتی اور جماعتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صوبے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی  گئی،  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قیادت کا اصل امتحان سیاسی نعروں میں نہیں بلکہ مشکل  حالات کے باوجود عوامی مفاد کے فیصلوں میں پوشیدہ ہوتا ہے ۔

    پاکستان کی سیاست میں اکثر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ فیصلے عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی مصلحت کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں، ایسے ماحول میں اگر کوئی رہنما کھل کر یہ پیغام دے کہ اس کے لیے جماعتی وابستگی سے بڑھ کر ملک  کا مفاد اہم ہے تو یہ رویہ نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے ۔

    پشاور کا حالیہ اجلاس اسی سوچ کا آئینہ دار تھا، جہاں اختلافِ رائے کے باوجود مشاورت، ہم آہنگی اور اجتماعی بہتری کو ترجیح دی گئی۔خیبر پختونخوا اس وقت جن چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن میں دہشتگردی سرفہرست ہے ،یہ کسی ایک جماعت یا فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں ۔

    معاشی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، امن و امان کی صورتحال اور عوامی سہولیات کی فراہمی جیسے معاملات سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے حل نہیں ہوتے، ان کے لیے ایسی قیادت درکار ہوتی ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدتی استحکام کو مدنظر رکھے۔ وزیراعلیٰ کا حالیہ مؤقف اسی شعور کی عکاسی کرتا ہے ۔

    اہم بات یہ ہے کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب اختلاف ذاتیات یا محض مخالفت برائے مخالفت کی شکل اختیار کر لے تو نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ پشاور کے اجلاس میں جس سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے یہ پیغام دیا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت اب کی بار  تصادم کے بجائے تعاون کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، یہی وہ طرزِ فکر ہے جو کسی بھی صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے ۔

    اس طرزِ حکمرانی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے اداروں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جب بیوروکریسی، منتخب نمائندے اور دیگر سٹیک ہولڈرز یہ دیکھتے ہیں کہ فیصلہ سازی میں سیاسی مفاد کے بجائے عوامی ضرورت کو ترجیح دی جا رہی ہے تو انتظامی مشینری زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتی ہے، یوں پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے درمیان فاصلے کم ہو جاتے ہیں ۔

    سیاسی قیادت کا اصل قد اُس وقت بلند ہوتا ہے جب وہ تنقید کے باوجود درست سمت پر قائم رہے۔ ذاتی یا جماعتی دباؤ سے نکل کر اجتماعی مفاد میں فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر یہی وہ وصف ہے جو ایک عام سیاستدان اور مدبر رہنما میں فرق واضح کرتا ہے ۔

    حالیہ اجلاس نے کم از کم یہ تاثر ضرور مضبوط کیا ہے کہ صوبائی قیادت وسیع تر تناظر میں سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رویے کو وقتی اقدام کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے، اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف سیاسی درجۂ حرارت میں کمی آئے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا ۔

    عوام بالآخر نتائج دیکھنا چاہتے ہیں،روزگار کے مواقع، بہتر تعلیم و صحت کی سہولیات اور امن و استحکام۔ جب قیادت اپنے فیصلوں میں ان ترجیحات کو مقدم رکھتی ہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے ۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پشاور کا حالیہ اجلاس محض ایک میٹنگ نہیں بلکہ ایک پیغام تھا،یہ پیغام کہ سیاست اگر وسیع تر مفاد کے لیے کی جائے تو اختلاف کے باوجود اتفاق کی راہیں نکل سکتی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سوچ آنے والے دنوں میں عملی اقدامات کی صورت میں کس حد تک سامنے آتی ہے، اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو یہ صوبے کے سیاسی کلچر میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامام بارگاہ خودکش حملہ، وزیراعظم کا بمبار کو روکنے والے شہری کیلئے 1 کروڑ، شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ امداد دینے کا اعلان
    Next Article بنگلادیش میں جنرل اليکشن کیلئے ووٹنگ ، بی این پی اور جماعت اسلامی میں کانٹےکا مقابلہ متوقع
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026

    پاکستان میں امریکہ-ایران مذاکرات ناکام نہیں بلکہ ایک تزویراتی وقفے کا شکار ہوئے ہیں

    اپریل 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایران اور امریکہ کے درمیان مزید مذاکرات کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    اپریل 14, 2026

    فنکاروں کو وزیراعظم صحت کارڈ دیکر بیوقوف بنایا گیا ۔۔ نجیب اللہ انجم

    اپریل 14, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    عالمی سرفہرست ای کامرس کمپنی علی بابا کی پاکستان میں سرمایہ کاری، لائسنس جاری

    اپریل 14, 2026

    امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور اس ہفتے اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان۔ بیک چینل رابطے جاری

    اپریل 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.