Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اکتوبر 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف
    • پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط
    • واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد
    • خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
    • بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت
    • پاکستان کا پہلا خلاباز چین سے خلائی سفر کے لیے تیار
    • فارما ایشیا 2026ء کراچی: دوسرے روز بھی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی بھرپور شرکت
    • چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی جانب سے تمام محکموں کو خریداری کے عمل کا جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہدایت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!
    بلاگ فروری 13, 2026

    شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!

    Facebook Twitter Email
    A province lost in the battle of personality
    صوبے کے مسائل کے حل پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج بھی صوبے میں مقامی عوامی نمائندے سراپا احتجاج ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم  میں تحریک انصاف نے صوبے کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے، سوال مگر یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا جیسے حساس اور چیلنجز سے بھرے صوبے میں ایک فرد کی رہائی کو عوامی مسائل پر فوقیت دینا دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے؟ اور کیا پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی توانائی کا رخ درست سمت میں رکھا ہے؟باوجود اس کے کہ صوبے کے عوام کو آج جن مسائل کا سامنا ہے  وہ ماضی میں کبھی نہیں تھے ۔

    خیبر پختونخوا کو درپیش مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، دہشت گردی کے واقعات، معاشی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں خلا ،بے روزگاری، مہنگائی ( جو دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ ہے، سخت ترین سرد موسم میں بھی بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا عذاب، یہ سب ایسے چیلنجز ہیں جو فوری اور مسلسل توجہ چاہتے ہیں، صوبائی حکومت کا اولین فریضہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال اور معاش کو تحفظ فراہم کرے ۔

    مگر عملی منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا محور ایک ہی مطالبہ بن چکا ہے: عمران خان کی رہائی۔ پارٹی کے بانی ہونے کے ناطے تحریک انصاف کے قائدین اس میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنے پارٹی سربراہ کی رہائی کیلئے جدوجہد کریں لیکن جدوجہد ایسی ہو کہ جس سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہو اور اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ، یہ کسی طور بھی مناسب نہیں ۔

    پی ٹی آئی کی سیاست طویل عرصے سے ایک شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے، مگر جب حکمرانی شخصیت کے گرد محدود ہو جائے تو پالیسی سازی پس منظر میں چلی جاتی ہے، یہی تاثر آج خیبر پختونخوا میں موجود ہے ، صوبے کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں، خوشحالی ان کو بھی ملنی چاہیے، بنیادی ضروریات ان کو فراہم کرنا بھی ضروری ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں ، یہ عدالتوں کا دائرہ اختیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی حکومت کو اپنی انتظامی اور سیاسی توانائی کا بڑا حصہ اسی ایک مقصد پر صرف کرنا چاہیے؟ جب کہ صوبہ متعدد بحرانوں سے گزر رہا ہو؟اور صوبائی حکومت کو اپنے قائد کی رہائی کے علاوہ دوسرا کوئی مسئلہ نظر ہی نہ آ رہا ہو ۔

    صوبے کے عوام کو روزگار، امن، بنیادی ڈھانچے اور سماجی سہولیات درکار ہیں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور حکومت کی توجہ قومی سطح کی سیاسی مہم پر مرکوز ہے، تو یہ گورننس کی ناکامی سمجھی جائے گی اور اب تک تحریک انصاف اس میں ناکام ہی نظر آ رہی ہے ۔

    ایک بالغ سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جو بیک وقت دو محاذ سنبھال سکے، قانونی اور سیاسی جدوجہد اور انتظامی کارکردگی اور عوامی خدمت،اگر دوسرا پہلو کمزور ہو جائے تو پہلا نعرہ بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک شخص پر اتنی توجہ دی گئی کہ صوبے میں آج بھی بلدیاتی نمائندے سراپا احتجاج ہیں ۔

    سیاسی سرمایہ نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے بنتا ہے، اگر خیبر پختونخوا میں امن بہتر ہو، معیشت مستحکم ہو اور عوام کو ریلیف ملے، تو عمران خان کی رہائی کی مہم کو بھی زیادہ اخلاقی قوت حاصل ہوگی، مگر اگر صوبے کی کارکردگی کمزور ہو اور تمام توجہ ایک فرد کی قسمت پر مرکوز رہے، تو ناقدین کے لیے یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ پارٹی نے صوبے کو سیاسی مہم کا اکھاڑا بنا دیا ہے ۔

    حکمرانی کی اصل کسوٹی عوامی فلاح ہے۔ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں قیادت کا امتحان اس بات سے ہوگا کہ وہ شخصیات سے بالاتر ہو کر اداروں کو مضبوط کرے، امن قائم کرے اور معاشی استحکام لائے، اگر پی ٹی آئی واقعی عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایک فرد کی رہائی سے زیادہ اہم عوام کی بھلائی ہے ، ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ صوبہ ایک سیاسی بیانیے کی نذر ہو چکا ہے، اور اصل مسائل انتظار میں کھڑے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرِاعظم شہبازشریف کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کو ٹیلیفون ، کامیابی پر مبارکباد
    Next Article حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے: آئی ایم ایف
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، وزیر اعظم شہبازشریف

    اکتوبر 22, 2026

    پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں” بدر” مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن ڈی سی: پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    خیبرپختونخوا میں گونر کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو ایم پی او کے تحت گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

    اکتوبر 22, 2026

    بلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل سٹیل ملز فعال، یومیہ 500 ٹن سریا تیار کرنے کی صلاحیت

    اکتوبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.