Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, جولائی 7, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش
    • کوئٹہ؛ قبائلی افراد اور مسلح دہشتگردوں میں جھڑپ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی
    • خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
    • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب
    • بیلجیم اور اسپین کی شاندار فتوحات، امریکہ اور پرتگال کا ورلڈ کپ سفر ختم
    • معاہدہ یا مکمل خاتمہ، ٹرمپ کا ایران کو دھمکی، قالیباف نے امریکی صدر کو وہمی قرار دیدیا
    • زیارت حملہ: کلیئرنس آپریشن مکمل، 9 پولیس اہلکار شہید، 15 دہشت گرد مارے گئے
    • فلسطين کی تنظيم حماس نے غزہ گورننگ باڈی تحلیل کردی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!
    بلاگ

    شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!

    فروری 13, 2026Updated:فروری 13, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    A province lost in the battle of personality
    صوبے کے مسائل کے حل پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج بھی صوبے میں مقامی عوامی نمائندے سراپا احتجاج ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم  میں تحریک انصاف نے صوبے کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے، سوال مگر یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا جیسے حساس اور چیلنجز سے بھرے صوبے میں ایک فرد کی رہائی کو عوامی مسائل پر فوقیت دینا دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے؟ اور کیا پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی توانائی کا رخ درست سمت میں رکھا ہے؟باوجود اس کے کہ صوبے کے عوام کو آج جن مسائل کا سامنا ہے  وہ ماضی میں کبھی نہیں تھے ۔

    خیبر پختونخوا کو درپیش مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، دہشت گردی کے واقعات، معاشی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں خلا ،بے روزگاری، مہنگائی ( جو دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ ہے، سخت ترین سرد موسم میں بھی بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا عذاب، یہ سب ایسے چیلنجز ہیں جو فوری اور مسلسل توجہ چاہتے ہیں، صوبائی حکومت کا اولین فریضہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال اور معاش کو تحفظ فراہم کرے ۔

    مگر عملی منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا محور ایک ہی مطالبہ بن چکا ہے: عمران خان کی رہائی۔ پارٹی کے بانی ہونے کے ناطے تحریک انصاف کے قائدین اس میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنے پارٹی سربراہ کی رہائی کیلئے جدوجہد کریں لیکن جدوجہد ایسی ہو کہ جس سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہو اور اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ، یہ کسی طور بھی مناسب نہیں ۔

    پی ٹی آئی کی سیاست طویل عرصے سے ایک شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے، مگر جب حکمرانی شخصیت کے گرد محدود ہو جائے تو پالیسی سازی پس منظر میں چلی جاتی ہے، یہی تاثر آج خیبر پختونخوا میں موجود ہے ، صوبے کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں، خوشحالی ان کو بھی ملنی چاہیے، بنیادی ضروریات ان کو فراہم کرنا بھی ضروری ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں ، یہ عدالتوں کا دائرہ اختیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی حکومت کو اپنی انتظامی اور سیاسی توانائی کا بڑا حصہ اسی ایک مقصد پر صرف کرنا چاہیے؟ جب کہ صوبہ متعدد بحرانوں سے گزر رہا ہو؟اور صوبائی حکومت کو اپنے قائد کی رہائی کے علاوہ دوسرا کوئی مسئلہ نظر ہی نہ آ رہا ہو ۔

    صوبے کے عوام کو روزگار، امن، بنیادی ڈھانچے اور سماجی سہولیات درکار ہیں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور حکومت کی توجہ قومی سطح کی سیاسی مہم پر مرکوز ہے، تو یہ گورننس کی ناکامی سمجھی جائے گی اور اب تک تحریک انصاف اس میں ناکام ہی نظر آ رہی ہے ۔

    ایک بالغ سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جو بیک وقت دو محاذ سنبھال سکے، قانونی اور سیاسی جدوجہد اور انتظامی کارکردگی اور عوامی خدمت،اگر دوسرا پہلو کمزور ہو جائے تو پہلا نعرہ بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک شخص پر اتنی توجہ دی گئی کہ صوبے میں آج بھی بلدیاتی نمائندے سراپا احتجاج ہیں ۔

    سیاسی سرمایہ نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے بنتا ہے، اگر خیبر پختونخوا میں امن بہتر ہو، معیشت مستحکم ہو اور عوام کو ریلیف ملے، تو عمران خان کی رہائی کی مہم کو بھی زیادہ اخلاقی قوت حاصل ہوگی، مگر اگر صوبے کی کارکردگی کمزور ہو اور تمام توجہ ایک فرد کی قسمت پر مرکوز رہے، تو ناقدین کے لیے یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ پارٹی نے صوبے کو سیاسی مہم کا اکھاڑا بنا دیا ہے ۔

    حکمرانی کی اصل کسوٹی عوامی فلاح ہے۔ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں قیادت کا امتحان اس بات سے ہوگا کہ وہ شخصیات سے بالاتر ہو کر اداروں کو مضبوط کرے، امن قائم کرے اور معاشی استحکام لائے، اگر پی ٹی آئی واقعی عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایک فرد کی رہائی سے زیادہ اہم عوام کی بھلائی ہے ، ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ صوبہ ایک سیاسی بیانیے کی نذر ہو چکا ہے، اور اصل مسائل انتظار میں کھڑے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرِاعظم شہبازشریف کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کو ٹیلیفون ، کامیابی پر مبارکباد
    Next Article حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے: آئی ایم ایف
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    زیارت میں 15 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کی ہلاکت، وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے پولیس کی ستائش

    جولائی 7, 2026

    کوئٹہ؛ قبائلی افراد اور مسلح دہشتگردوں میں جھڑپ، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی

    جولائی 7, 2026

    خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

    جولائی 7, 2026

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب

    جولائی 7, 2026

    بیلجیم اور اسپین کی شاندار فتوحات، امریکہ اور پرتگال کا ورلڈ کپ سفر ختم

    جولائی 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.