عمران خان کی خرابی صحت معاملہ پر پی ٹی آئی ایک واضح قیادت کی خلا کا شکار دکھائی دیتی ہے، جب مرکزی قائد عملی طور پر فیصلہ سازی کی پوزیشن میں نہ ہو تو جماعت کے اندر مختلف آوازیں اور بیانیے ابھرنا فطری امر ہے، لیکن یہی اختلاف اگر نظم و ضبط سے عاری ہو تو انتشار میں بدل جاتا ہے ۔
شہریار آفریدی نے پارلیمانی کمیٹی میں کوئی غلط بات نہیں کی بلکہ بالکل ٹھیک بات کی ہے کہ پارٹی لیڈرشپ، فیملی محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی سب کو متحد ہوکر ایک ہی لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے،علی امین گنڈاپور نے بیرونی ممالک قیادت اور یوٹیوبرز پی ٹی آئی کیلئے ناسور قرار دیا ۔
اس پر عمران ریاض ،شہباز گل اور شہزاد اکبر نے شہریار آفریدی اور دیگر رہنماؤں جو جیل کی صعوبتیں برداشت کرکے تاحال گراؤنڈ پر ڈٹے ہیں ،سخت ترین تنقید کر رہے ہیں ۔
پارٹی کے اندر حالیہ بیانات اور ردِعمل سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ہر رہنما خود کو حتمی اتھارٹی سمجھ رہا ہے، بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں اس وقت کئی افراد اپنے آپ کو “عقل کل” اور متبادل قیادت سمجھنے لگے ہیں، جس سے اجتماعی حکمتِ عملی کمزور ہو رہی ہے، اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، مگر جب ہر فرد خود کو مرکز بنا لے تو تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے ۔
مزید براں، بیرون ملک موجود قیادت اور یوٹیوبرز کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں ناقدین کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر سخت بیانات دینا اور جذباتی بیانیہ تشکیل دینا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، بعض مبصرین اسے “خطرناک کھیل” قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس سے کارکنان میں اشتعال تو پیدا ہوتا ہے لیکن واضح اور قابل عمل سیاسی حکمتِ عملی سامنے نہیں آتی، اس کے برعکس، ملک کے اندر موجود کارکنان اور رہنما قانونی و سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں ۔
تنقیدی نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ اگر جماعت کے مختلف دھڑے اپنی اپنی “دکان” چلاتے رہیں اور باہمی الزام تراشی جاری رہے تو اصل مقصد یعنی سیاسی استحکام اور خان کی رہائی کے لیے مؤثر جدوجہد پسِ پشت چلا جاتا ہے، ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا مہمات سے وقتی شور تو پیدا ہو سکتا ہے، مگر عملی سیاست کے لیے یکسوئی، نظم اور اجتماعی فیصلہ سازی ناگزیر ہوتی ہے ۔
غیر جانبدار سیاسی مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر، پی ٹی آئی کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بیرونی دباؤ سے زیادہ اندرونی ہم آہنگی کا ہے، اگر قیادت واضح سمت متعین نہ کر سکی اور اختلافات کو منظم نہ کیا گیا تو جماعت کو طویل المدتی سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

