پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ خیرسگالی اور تعاون کی پالیسی اپنائی اور یہ پوری دنیا سمیت خود افغانستان بھی تسلیم کرتا ہے، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی، مشکل وقت میں سفارتی اور انسانی امداد فراہم کی، حتیٰ کہ عالمی سطح پر افغانستان کے مؤقف کو بھی اجاگر کیا، مگر سوال یہ ہے کہ اس خیرسگالی کے بدلے پاکستان کو کیا ملا؟
گزشتہ چند برسوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس اور خود ٹی ٹی پی کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تنظیم کی قیادت اور تربیتی مراکز افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ اگر ایک ریاست اپنی سرزمین کو ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے دے تو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق یہ محض داخلی معاملہ نہیں رہتا ۔
افغانستان میں برسراقتدار افغان طالبان نے بارہا یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن یہ زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ، آج تک طالبان نے افغان سرزمین پر موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ،اور زمینی حقائق بھی ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، سرحد پار سے دراندازی، حملوں کی منصوبہ بندی اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے شواہد پاکستان نے بارہا اقوام متحدہ سمیت افغان حکام کو بھی دیئے ۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر سمجھوتہ کر لے؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اگر کوئی حکومت اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہو تو متاثرہ ملک کو محدود اور ہدفی کارروائی کا حق حاصل ہوتا ہے، دنیا میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں ریاستوں نے اپنے دفاع کے لیے سرحد پار آپریشن کیے ۔
لیکن مسئلے کا حل محض عسکری نہیں،اصل ذمہ داری کابل حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح اور عملی اقدامات کرے۔ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی، قیادت کی حوالگی اور سرحدی نگرانی کا مؤثر نظام ناگزیر ہے، بیانات اور وعدے کافی نہیں ، نتائج درکار ہیں ۔
اگر افغان سرزمین سے دہشتگرد تنظیمیں پاکستان پر حملے جاری رکھتی ہیں اور افغان حکومت ان دہشتگردوں کو لگام نہیں ڈالتی تو ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس آپشن کیا بچتا ہے؟ایسے میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر افغان حکومت افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی تو پاکستان کیساتھ مل بیٹھ کر حکمت عملی بنائے ، خود بھی محفوظ رہیں اور پاکستان سمیت خطے کو بھی محفوظ بنانے میں اپنا فرض پورا کرے ۔
گیند اب کابل کے کورٹ میں ہے، اگر افغان حکومت واقعی خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور اس حوالے سے صرف زبانی باتوں سے نہیں بلکہ عملی طور پر ایسا کرنا ہوگا ۔

