خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما سردار علی امین گنڈاپور کی سرکاری سیکیورٹی سے متعلق حالیہ تنازع نے صوبائی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
24 فروری 2026 کو علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ رات تقریباً 11 بجے چیف سیکیورٹی افسر (یا ڈپٹی سی ایس او) کے حکم پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایک جیمر، دو ڈبل کیبن گاڑیاں، ڈرائیور سمیت 14 اہلکار (بعض ذرائع میں 16 کا ذکر ہے جن میں جیمر آپریٹرز، گن مین اور ڈرائیور شامل تھے) تعینات تھے جو وزیراعلیٰ ہاؤس سے فراہم کی گئی سیکیورٹی تھی۔
یہ سیکیورٹی پشاور سے تعینات تھی جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان (ان کا آبائی علاقہ) سے مقامی پولیس اہلکار اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ڈی آئی خان ایک حساس اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقہ ہے جہاں انہیں سابقہ تھریٹ الرٹس موصول ہیں، جو ان کی سابقہ حکومت میں دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کی وجہ سے تھے۔ انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر سیکیورٹی واپس بھی دی جائے تو وہ قبول نہیں کریں گے اور وزیراعلیٰ کو پیغام دیا کہ "اب اس کی کوئی ضرورت نہیں”۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے پریس سیکریٹری اور انفارمیشن ایڈوائزر شفیع جان نے بیان دیا کہ سابق وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی واپس لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی ہدایت جاری ہوئی۔ انہوں نے ان خبروں کو بے بنیاد اور سیاسی مقاصد کے لیے پھیلائی گئی قرار دیا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ کل 77 اہلکار کا ذکر مجموعی سیکیورٹی (بشمول رہائش گاہ یا پرانی تفصیلات) سے متعلق ہو سکتا ہے، جبکہ حالیہ معاملہ صرف وزیراعلیٰ کی طرف سے فراہم کردہ محدود اسکواڈ سے ہے۔
یہ تنازع پی ٹی آئی کی اندرونی اختلافات اور موجودہ صوبائی حکومت (جو پی ٹی آئی کی ہے) کے ساتھ سابق رہنما کے ممکنہ اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاملہ سیاسی دباؤ یا عوامی جذبات کو ابھارنے کی کوشش ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ فی الحال علی امین گنڈاپور ڈی آئی خان میں اپنی ذاتی اور مقامی سیکیورٹی کے ساتھ موجود ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کی سیاسی عدم استحکام اور وی آئی پی سیکیورٹی کے کلچر پر بحث کو مزید تیز کر رہی ہے۔

