پشاور ہائی کورٹ میں وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور نقل مکانی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل بینچ نے کی۔ سماعت کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل اور قبائلی مشران بھی عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ تیراہ آپریشن کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے سے متعلق دو نئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ عدالت نے دونوں درخواستوں کو تیراہ آپریشن سے متعلق زیرِ سماعت کیس کے ساتھ یکجا کر دیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے کسی نئے آپریشن کی اجازت نہیں دی، اور یہ کارروائی وفاقی حکومت کی ہدایات پر شروع کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تیراہ آپریشن کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں ذمہ داری سے انکار کر رہی ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں کو بند رکھا گیا ہے جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ تیراہ اور اپر باڑہ کے علاقوں کو فوری طور پر عوام کے لیے بحال کیا جائے تاکہ بے گھر ہونے والے افراد کو اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت دی جا سکے۔
عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

