پشاور (حسن علی شاہ) سینئر صحافی اور تجزیہ کار مبارک علی اور محمد وسیم نے کہا ہے کہ جنوبی خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک اور اہم شاہراہوں پر ان کی سرگرمیاں سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
یہ بات انہوں نے خیبر نیوز کے ٹاک شو “بارڈر فائل” میں میزبان رفعت اللہ اورکزئی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور افغانستان میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشنز پر تفصیلی گفتگو کی۔
مبارک علی نے کہا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بارہا انتباہ اور مطالبات کے باوجود طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دراندازی اور تخریبی کارروائیوں سے روکنے میں مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مبارک علی نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ جنوبی خیبرپختونخوا میں اہم شاہراہوں پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت، ان کے نیٹ ورکس اور کارروائیوں کی ویڈیوز کا منظر عام پر آنا سیکیورٹی اداروں کے لیے نہ صرف چیلنج بلکہ تشویش کا باعث بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی اس حوالے سے پریس بریفنگز دی جا چکی ہیں مگر ان کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے بعض سیاسی شخصیات کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔
محمد وسیم نے اس موقع پر کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنوبی پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر موجودہ حالات میں سب سے پہلے پاکستان کے مفاد اور سلامتی کو ترجیح دینا وقت کا بنیادی تقاضا ہے۔

