لکی مروت کے قبائلی سب ڈویژن بیٹنی میں پولیس موبائل کے قریب دھماکے میں ایس ایچ او سمیت 7 اہلکار شہید ہو گئے جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی بھی ہوا ہے ۔
لکی مروت : پولیس ترجمان کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب شادی خیل پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او گشت پر تھے ،اس دوران دھماکہ خیز مواد پولیس موبائل کے قریب نصب تھا، دھماکے کے بعد علاقے میں پولیس کی اضافی نفری روانہ کر دی گئی ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ شہداء میں ایس ایچ او شادی خیل صدر اعظم اور اے ٹی ایس کے اہلکار بھی شامل ہیں، سپاہی شاہ بہرام، شاہ خالد، حاجی محمد، گل زادہ اور سخی زادہ شہید ہوئے، کانسٹیبل انصاف الدین زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے ۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے ۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے شہید ایس ایچ او اور دیگر بہادر پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی کے لیے دعائے مغفرت کی، انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دُعا کی اوران کی ہمت افزائی کی ۔
صدر مملکت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں قوم کے لئے باعثِ فخر ہیں، دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل ہے ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لکی مروت میں پولیس گاڑی کے قریب دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور شہید ایس ایچ او و دیگر جوانوں کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں ۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لکی مروت میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور جام شہادت نوش کرنے والے ایس ایچ او سمیت 6پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے اپنا آج قوم کے پرامن کل پر قربان کیا، کے پی کے پولیس کے افسروں اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں ۔

