دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ صرف بارود اور خون تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ زمین، فضا اور پانی کے لیے بھی ایک خاموش مگر ہولناک خطرہ بن چکی ہے، 2024 میں عالمی فوجی اخراجات کا 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جانا اس بات کی واضح علامت ہے کہ انسان نے ایک بار پھر ہتھیاروں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے، مگر اس دوڑ کی اصل قیمت ماحول ادا کر رہا ہے اور یہ قیمت فوری بھی ہے اور نسلوں تک پھیلنے والی بھی ہے ۔
یوکرین، غزہ، سوڈان، لبنان اور ایران جیسے خطے اس وقت جنگ اور کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں، مگر ان تنازعات کے اثرات صرف ان جغرافیوں تک محدود نہیں رہتے، بمباری سے تباہ ہونے والے گھر، ہسپتال، بجلی کا نظام، پانی کی فراہمی اور زرعی زمینیں ایک ایسے ماحولیاتی بحران کو جنم دیتی ہیں جس کے اثرات فرنٹ لائن سے بہت دور تک محسوس کیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جدید تحقیق اب جنگ کو صرف انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی المیہ قرار دے رہی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ زندگی کے ان بنیادی نظاموں کو نشانہ بناتی ہے جو کسی بھی معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتے ہیں، پانی کی لائنوں، سیوریج نظام، ایندھن کے ذخائر، بندرگاہیں اور زرعی ڈھانچے جب تباہ ہوتے ہیں تو اس کے بعد جو کچھ باقی رہتا ہے وہ زہریلی مٹی، آلودہ ہوا اور غیر محفوظ پانی کی شکل میں سامنے آتا ہے، یہ وہ عوامل ہیں جو جنگ کے خاتمے کے بعد بھی بیماریوں، قحط اور نقل مکانی کے نئے سلسلے شروع کرتے ہیں ۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ توانائی کے وسائل اب براہ راست میدانِ جنگ بن چکے ہیں ۔
ایران پر حملوں اور جوابی کارروائیوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھی بلکہ خلیج فارس جیسے حساس ماحولیاتی نظام پر بھی خطرات منڈلانے لگے، آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی موجودگی اور ممکنہ آئل اسپِل کا خدشہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایک حادثہ پورے سمندری حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے حالیہ تجزیے نےجنگ کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کیا ہے جسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے، اور وہ ہے کاربن کا اخراج ۔
اس تحقیق کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ابتدائی دو ہفتوں میں 50 لاکھ ٹن سے زائد گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوا،جو دنیا کے درجنوں کم اخراج والے ممالک کے مجموعی اخراج کے برابر ہے، یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے کہ جنگیں موسمیاتی تبدیلی کو کس رفتار سے تیز کر رہی ہیں ۔
دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس اخراج کا سب سے بڑا حصہ براہِ راست دھماکوں سے نہیں بلکہ تباہ شدہ عمارتوں سے آتا ہے، ہزاروں سویلین ڈھانچوں کی تباہی نہ صرف فوری کاربن پیدا کرتی ہے بلکہ ان کی دوبارہ تعمیر بھی ماحول پر ایک اضافی بوجھ ڈالتی ہے، اس طرح جنگ کا اثر وقتی نہیں بلکہ ایک طویل ماحولیاتی قرض کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑتا ہے ۔
اسی طرح جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور فوجی گاڑیوں کا ایندھن بھی اس تباہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ابتدائی دنوں میں ہی کروڑوں لیٹر ایندھن کا استعمال اور اس سے پیدا ہونے والی لاکھوں ٹن کاربن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگیں دراصل توانائی کے بے تحاشہ استعمال کا دوسرا نام ہے ۔
جب تیل کے ذخائر پر حملے ہوتے ہیں اور ریفائنریاں جلتی ہیں تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دھواں نہ صرف فضا کو آلودہ کرتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کرتے ہیں،جیسا کہ تہران میں کالی بارش کے مناظر نے دنیا کو چونکا دیا، یہ پہلو بھی کم اہم نہیں کہ جنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ خود بھی ایک ماحولیاتی بوجھ ہے ۔
ہزاروں میزائل، ڈرونز اور بم نہ صرف فوری تباہی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان کی تیاری، استعمال اور تباہی سب مل کر کاربن اخراج میں اضافہ کرتے ہیں، یوں جنگ ایک مکمل صنعتی عمل بن جاتی ہے جس کا ہر مرحلہ ماحول کو متاثر کرتا ہے ۔
اگر اس ساری صورتحال کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایک حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ تیل اور گیس نہ صرف جنگوں کا ایندھن ہے بلکہ اکثر ان کی بنیادی وجہ بھی یہی وسائل عالمی سیاست میں کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور انہی کے گرد طاقت کا توازن طے ہوتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق جب تک عالمی معیشت کا انحصار ان ذرائع پر رہے گا، اس وقت تک جنگ اور ماحولیاتی بحران ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے ۔
تاریخ اس کی گواہ ہے، ویتنام میں کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات آج بھی باقی ہیں، خلیجی جنگ میں جلتے تیل کے کنوؤں نے ماحول کو دہائیوں تک متاثر رکھا، اور عراق میں جنگی آلودگی نے صحت کے مسائل کو جنم دیا، یہ تمام مثالیں اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ جنگ کا ماحولیاتی اثر عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت کا ہوتا ہے ۔
اسی تناظر میں ماہرین قابلِ تجدید توانائی کو ایک ممکنہ حل کے طور پر پیش کرتے ہیں، سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ جغرافیائی سیاست کے دباؤ سے بھی نسبتاً آزاد ہے، یہ نظام کسی ایک مقام پر مرکوز نہیں ہوتا، اس لیے انہیں جنگ کے دوران مکمل طور پر تباہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔
جنگ جیت کون رہا ہے؟ بات یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس جنگ میں زمین کتنی ہار رہی ہے؟ کیونکہ جب پانی زہریلا ہو جائے، مٹی بنجر ہو جائے اور ہوا سانس لینے کے قابل نہ رہے تو فتح کا تصور بھی بے معنی ہو جاتا ہے، امن کا مطلب صرف ہتھیاروں کی خاموشی نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول کی بحالی ہے جہاں زندگی ممکن ہو، اگر دنیا نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا تو آنے والے وقت میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پورا سیارہ ان کی لپیٹ میں آ جائے گا ۔

