Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, مئی 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان امن کا علمبردار بن گیا: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
    • طالبان مخالف جذبات میں شدت، افغان شہری کی پاکستانی عسکری قیادت سے طالبان رجیم سے نجات دلانے کی اپیل
    • پاکستان-ازبکستان تعاون: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور ازبک گورنر کی ملاقات، تجارت بڑھانے پر اتفاق
    • ٹیکسلا میں ویساک ڈے 2026 کی مرکزی تقریب منعقد، عالمی رہنماؤں کی شرکت، امن، رواداری اور بدھ مت ورثے کے فروغ کا پیغام
    • افغان جارحیت کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، قبائلی عمائدین کا مشترکہ اعلامیہ
    • پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن بھی جاری
    • وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایران کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا،امریکی وفد آج صبح پاکستان کیلئے روانہ ہو گا
    • پی ایس ایل11: اسلام آباد یونائٹڈ نے حیدرآباد کنگز مین کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا !
    بلاگ

    ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا !

    مارچ 20, 2026Updated:مارچ 20, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    This has never happened before
    جب رمضان کے چاند کیلئے اجلاس پشاور میں طلب کیا گیا تو شوال کے چاند کیلئے اسلام آباد میں اجلاس کا انعقاد کیوں کیا گیا؟
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد سے ارشد اقبال کی تحریر: ۔

    جمعرات یعنی 29 ویں رمضان المبارک کو اسلام آباد میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا ، اجلاس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے اعلان کیا کہ شوال کے چاند کی شہادتیں ملک بھر میں کہیں سے بھی موصول نہیں ہوئیں اس لئے جمعہ 20 مارچ کو 30 واں روزہ ہوگا اور عیدالفطر ہفتہ 21 مارچ کو منائی جائے گی ، اس اعلان سے قبل مردان، مہمند، باجوڑ اور خیبر پختونخوا کے بعض دیگر علاقوں میں جمعے کو عید کے اعلانات ہوئے، مہمند ضلع کے جن علاقوں میں عید کا اعلان کیا گیا وہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ روزہ رکھا تھا لہذا 30 روزے مکمل ہونے پر وہ جمعے کو ہی عید منائیں گے ۔

    یہ پہلی بار نہیں ہوا اس سے قبل بھی ملک میں ایسا ہوتا رہا کہ مرکزی کمیٹی ایک اعلان کرتی ہے اور پشاور میں اس سے اختلاف سامنے آتا ہے ، لیکن جو کچھ اس بار ہوا شائد پہلے کبھی نہیں ہوا ۔

    ملک بھر میں ایک ہی روز عید کیلئے پہلے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی کوششیں دیکھی گئی ہیں اور اس کی ستائش بھی کی گئی ہے لیکن اس بار جب رمضان کے چاند کیلئے اجلاس پشاور میں طلب کیا گیا تو شوال کے چاند کیلئے اسلام آباد میں اجلاس کا انعقاد کیوں کیا گیا؟ یکجہتی اور ایک دن عید کے انعقاد کیلئے اجلاس بھی پشاور میں بلانا چاہئے تھا ، یہی سے اس بار غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ، اور ایسی غلط فہمیاں جو شائد پہلے کبھی دیکھی گئی ہوں ۔

    پشاور کی تاریخی قاسم علی مسجد کے علما کرام نے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق ہفتے کو عید کا اعلان کیا لیکن اس سے قبل مردان، اور دیگر علاقوں میں جمعے کو عید منانے کے اعلانات ہو چکے تھے اور جو لوگ اعتکاف کیلئے مساجد میں بیٹھے تھے وہ بھی اعتکاف ختم کرکے گھروں کو چلے گئے، پھر کاٹلنگ تحصیل کے نواحی علاقے جمال گڑھی میں قاضی صاحب نے نہ صرف اعلان واپس لیا بلکہ اعتکاف والوں کو بھی کہا گیا کہ وہ واپس اعتکاف کیلئے مساجد جائیں ، اعتکاف توڑ کر گھر جانے والے دوبارہ مساجد گئے اور پھر اعتکاف کیلئے بیٹھ گئے، تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ان کیلئے علما کا فیصلہ ماننا اہم ہے لیکن جن کے اعتکاف میں خلل پڑ گیا ، ان کا کیا بنے گا؟

    مجھے یاد ہے جب میں بہت چھوٹا تھا اور روزے رکھنا ابھی شروع نہیں کئے تھے، ایک بار دن کے شائد دس یا گیارہ بجے ہونگے قاضی صاحب کی جانب سے اعلانات کئے گئے کہ تمام لوگ اب سے روزہ رکھ لیں ، اس وقت جن جن کے ہاتھوں میں کھانے پینے کی جو بھی چیزیں تھیں وہ چھوڑ دیں اور روزہ رکھ لیا تھا، میں نے اپنے والد سے پوچھا تھا کہ یہ کیسا روزہ ہوگا جو دن کو رکھنا پڑ رہا ہے؟مجھے والد صاحب نے بتایا تھا کہ یہ قاضی صاحب کا حکم ہے اور اس کو ماننا ضروری ہوتا ہے ۔

    سوال یہ ہے کہ مردان سمیت دیگر علاقوں میں اس بار مسجد قاسم علی خان کی جانب سے اعلان کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا ؟ کیوں عجلت میں ایسے اعلانات کئے گئے جس سے لوگوں میں کنفیوژن پیدا ہوئی؟

    میرے خیال میں اگر شوال کے چاند کیلئے بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہوتا تو اتنی کنفیوژن ہر گز نہ ہوتی ،سونے پہ سہاگہ یہ کہ اے این پی مردان کے رہنما حمایت اللہ مایار نے بھی اعلان کیا کہ جمعے کو عید ہوگی،
    سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر رویت کیلئے کمیٹیاں اور متعلقہ علما موجود ہیں تو سیاسی لوگ ان کے کام میں مداخلت کیوں کرتے ہیں ؟

    جب تک متعلقہ لوگ اپنی ذمے داریاں خوش اسلوبی کیساتھ نہیں نبھائیں گے تب تک غیر متعلقہ لوگ مداخلت کرتے رہیں گے اور تب تک کنفیوژن کو موقع ملتا رہے گا ۔

    مولانا عبدالخبیر آزاد سمیت دیگر کمیٹیوں کے عہدیداران اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے کوششیں کریں تو یہ مسئلہ مستقل ہو سکتا ہے ،دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں تمام اسلامی مہینوں اور تہواروں کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے لیکن ہمارے ہاں دیگر مسائل کی طرح رمضان اورعید الفطر کے چاند پر اتفاق کشمیر کے مسئلے سے بھی بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔

    ہر سال رمضان المبارک شروع ہونے سے قبل ہر آدمی یہ سوال کرتا ہے کہ کیا اس بار ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ ہوگا؟
    پھر رمضان کے آخری عشرے میں عیدالفطر کے ایک ہونے کے بھی سوال شروع ہو جاتے ہیں ،اس کا مستقل حل نکالنا رویت ہلال کی تمام کمیٹیوں کی ذمہ داری ہے جس میں اب تک یہ کمیٹیاں ناکام رہی ہیں ۔
    اللہ جل شانہ ہم سب کے روزے، عبادات اور دعائیں قبول فرمائیں ، امین

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleچاند کی رویت اور تقسیم کی تاریخی داستان: خیبر پختونخوا کا المیہ
    Next Article شوال کا چاند نظر آگیا، ملک بھر میں عید الفطر کل بروز ہفتہ منائی جائے گی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاکستان کی ترقی کا بنیادی ستون خواتین کی بااختیاری – تحریر: راشد پختون

    اپریل 15, 2026

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی: پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا

    اپریل 14, 2026

    اینٹ اینٹ: امریکا ایران جنگ کی کہانی: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    اپریل 13, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان امن کا علمبردار بن گیا: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

    مئی 2, 2026

    طالبان مخالف جذبات میں شدت، افغان شہری کی پاکستانی عسکری قیادت سے طالبان رجیم سے نجات دلانے کی اپیل

    مئی 2, 2026

    پاکستان-ازبکستان تعاون: وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور ازبک گورنر کی ملاقات، تجارت بڑھانے پر اتفاق

    مئی 2, 2026

    ٹیکسلا میں ویساک ڈے 2026 کی مرکزی تقریب منعقد، عالمی رہنماؤں کی شرکت، امن، رواداری اور بدھ مت ورثے کے فروغ کا پیغام

    مئی 2, 2026

    افغان جارحیت کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، قبائلی عمائدین کا مشترکہ اعلامیہ

    مئی 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.