Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
    • فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی
    • پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ
    • شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام
    • فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی
    • وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت
    • عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا
    • شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » چاند کی رویت اور تقسیم کی تاریخی داستان: خیبر پختونخوا کا المیہ
    بلاگ

    چاند کی رویت اور تقسیم کی تاریخی داستان: خیبر پختونخوا کا المیہ

    مارچ 20, 2026Updated:مارچ 20, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The historical story of the sighting and division of the moon: The tragedy of Khyber Pakhtunkhwa
    بچے الجھن میں، بزرگ مایوس۔ ایک ہی خاندان کے افراد نے مختلف دن عید کی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد سے مبارک علی کی خصوصی تحریر: ۔

    اس سال عیدالفطر کے موقع پر خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز پر عجیب اعلانات گونجے، پہلے عید کا اعلان ہوا، پھر فوری واپس لے کر چاند کی شہادتیں باطل قرار دی گئیں ۔

    پشاور، مردان، چارسدہ اور دیگر علاقوں میں ایک ہی شہر کے مختلف محلوں، ایک ہی ٹاؤن اور ایک ہی گاؤں کے لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ کچھ نے 29 روزے مکمل کر کے عید منا لی جبکہ دوسرے ابھی 30ویں روزے پر تھے ۔

    پڑوسی ایک دوسرے کو "عید مبارک” کہنے سے گریز کر رہے تھے، اعتکاف سے اٹھنے والوں کو واپس بلایا گیا، کئی سیاسی رہنماؤں نے اس خالص مذہبی معاملے کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنانے کی کوشش کی ۔

    یہ کوئی نئی بات نہیں، تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ 1958 میں شمال مغربی علاقوں نے عید ایک دن پہلے منائی جبکہ باقی ملک بعد میں، اس کے بعد سے ہر دہائی میں ایسے واقعات دہراتے رہے۔، 2012 میں صوبے میں تین مختلف دنوں پر عید منائی گئی، ایک حصے نے ہفتے، دوسرے نے اتوار اور تیسرے نے پیر کو ۔

    ایک صدی پرانی روایت کے تحت مقامی علماء نے بار بار الگ شہادتیں پیش کر کے تقسیم پیدا کی، ماہرین فلکیات کے مطابق چاند کی عمر اکثر 12 سے 18 گھنٹے ہوتی ہے جو نظر آنا مشکل ہوتا ہے، مگر علاقائی اختلافات اسے تنازع بنا دیتے ہیں ۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ 29 یا 30 روزے دونوں شرعی طور پر جائز ہیں، ہر رمضان 29 دن کا نہیں ہوتا، اگر ایک ماہ گزر سکتا ہے تو دوسرا بھی، مگر حساس مذہبی معاملات پر لوگوں کو تقسیم کرنے والوں کا احتساب ضروری ہے، اس تقسیم کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک گاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے دور ہو گئے، بچے الجھن میں، بزرگ مایوس، ایک ہی خاندان کے افراد نے مختلف دن عید کی ۔

    افغانستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے مرکزی نظام کے تحت ایک ہی دن عید کا اعلان کیا، پاکستان میں یہ کیوں ممکن نہیں؟ سیاسی رہنماؤں کے لیے تو ہزاروں موضوعات ہیں، مگر مذہب کو سیاست کا آلہ نہ بنایا جائے، عید کا پیغام اتحاد ہے، اگر ہم چاند کو ایک ہی نظر سے دیکھ سکیں تو لوگوں کو بھی ایک ہی دل سے گلے لگا سکتے ہیں، تاریخی سبق یہ ہے کہ علاقائی فیصلوں کو قومی وحدت کے تابع کیا جائے تاکہ اگلا رمضان تقسیم کی بجائے اتحاد کا مظہر بنے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپشاور زلمی کا فینز کو چاند رات اور عید سے قبل روایتی تحفہ، ’’زمونگ زلمی‘‘ آفیشل ریجنل اینتھم 2026 کا ٹیزر جاری
    Next Article ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا !
    webdesk

    Related Posts

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026

    آٹے کے صندوق میں بند دو کلیاں

    مئی 5, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ

    جون 11, 2026

    فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں سے اہلخانہ کا اظہارِ لاتعلقی

    جون 11, 2026

    پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،دفترِ خارجہ

    جون 11, 2026

    شفافیت اور مؤثر حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت، پاور سیکٹر میں جدید ڈیٹا گورننس کونسل کا قیام

    جون 11, 2026

    فتنہ الخوارج اور افغانستان کے درمیان روابط، مہمند میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی

    جون 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.