اسلام آباد سے لیاقت خٹک کی خصوصی تحریر: ۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ہر فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن پر اثر انداز ہو سکتا ہے، ایسے حساس وقت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان ایک غیر معمولی پیشرفت ہے، یہ اقدام وقتی طور پر ہی سہی، مگر اس نے کشیدگی کے بادلوں میں کمی کی ایک جھلک ضرور پیدا کی ہے ۔
یہ پیشرفت محض ایک فیصلہ نہیں بلکہ پسِ پردہ جاری پیچیدہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے، جن میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنے کردار کا لوہا منوایا ہے، بظاہر خاموش مگر حقیقت میں نہایت متحرک سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف ترکی اور مصر کے ساتھ قریبی ہم آہنگی قائم رکھی بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی راہیں بھی ہموار کیں ۔
عالمی سیاست میں اکثر طاقت کا مظاہرہ فوجی قوت کے ذریعے کیا جاتا ہے، مگر اس موقع پر پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ اصل طاقت دانشمندانہ حکمت عملی اور متوازن خارجہ پالیسی میں پوشیدہ ہوتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے سفارتی محاذ پر تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھا، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی علاقائی و بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں نے اس کوشش کو مزید تقویت دی ۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے ایک متوازن راستہ اختیار کیا، یہی توازن اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے لاتا ہے، ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مکالمہ محدود ہو چکا ہے، اسلام آباد کی یہ پوزیشن نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہے ۔
تاہم یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ سفارتی کامیابی مستقل امن کی بنیاد رکھ سکے گی یا یہ صرف ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگا؟ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں کشیدگی کا خاتمہ محض ایک فیصلے سے ممکن نہیں، اس کے لیے مسلسل سفارتی کاوشیں، اعتماد سازی اورعلاقائی طاقتوں کے درمیان سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہے ۔
پاکستان کے لیے یہ موقع نہ صرف اپنی سفارتی اہمیت کو مزید مستحکم کرنے کا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی شناخت کو بھی اجاگر کرنے کا ہے، اگر یہ حکمت عملی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو بعید نہیں کہ پاکستان مستقبل میں بڑے علاقائی تنازعات کے حل میں ایک کلیدی کردار ادا کرے ۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگیں وقتی برتری تو دے سکتی ہیں، مگر پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات، تدبر اور سفارتکاری ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، موجودہ پیش رفت اسی حقیقت کی ایک عملی مثال ہےاور شاید ایک امید بھی ۔

