اسلام آباد (مبارک علی) — وزیر اعظم محمد شہباز شریف آج سے چار روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب، قطر اور ترکی روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ دورہ 15 سے 18 اپریل 2026 تک جاری رہے گا۔ وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور خصوصی معاون سید طارق فاطمی سمیت اعلیٰ حکام کا وفد بھی موجود ہے۔
دورے کا مقصد دو طرفہ تعاون کے علاوہ علاقائی امن و سلامتی کے امور پر مشاورت ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ثالثی عمل کو مضبوط بنانے اور ممکنہ دوسرے دور کی بات چیت کے لیے علاقائی حمایت حاصل کرنا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی جو 1979ء کی ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار ہوئے۔ یہ مذاکرات 21 گھنٹے تک جاری رہے اور پاکستان کی ثالثی سے ایک عارضی جنگ بندی طے پائی جو دو ہفتوں کے لیے نافذ العمل ہے۔
سعودی عرب اور قطر میں وزیر اعظم قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جہاں علاقائی صورتحال، خاص طور پر ہرمز آبنائے کی صورتحال اور امریکہ-ایران تنازع پر تبادلہ خیال ہو گا۔ ترکی میں وہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے اور صدر رجب طیب اردگان سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ دورہ پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ جبکہ عالمی ادارے جیسے اقوام متحدہ کی طرف سے ثالثی میں سست روی کا مظاہرہ ہو رہا ہے، پاکستان نے ذمہ داری اٹھا کر خطے میں امن کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد دونوں فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے اور دوسرے دور کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے اہم ہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم ثالث کے طور پر بھی ابھار رہی ہیں۔
دورے کے دوران معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور دفاعی شراکت داری کے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا پیغام لے کر جا رہا ہے اور تمام فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read

