ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے حالیہ پیش رفتوں پر ایک اہم سرکاری بیان جاری کیا ہے، بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی میں امریکیوں نے ایران کے سامنے نئی تجاویز پیش کی ہیں جن کا تہران فی الحال جائزہ لے رہا ہے اور ابھی تک ان پر کوئی سرکاری جواب نہیں دیا گیا ۔
اسلام آباد( مبارک علی) کونسل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا: ”حالیہ دنوں، پاکستانی آرمی کمانڈر کی تہران میں ثالثی کے طور پر موجودگی کے ساتھ امریکیوں کی طرف سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کا ایران فی الحال جائزہ لے رہا ہے اور ابھی تک انہیں جواب نہیں دیا گیا ہے۔“
یہ بیان ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان چند ہفتوں کی جنگ کے بعد طے پانے والا عارضی سیز فائر 22 اپریل کو ختم ہونے والا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر 15 اپریل کو تہران پہنچے تھے جہاں ان کے ساتھ وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا اور اُنہوں نے وہاں تین روز تک بات چیت کی ۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ملاقات باہمی مشاورت، علاقائی امن کے فروغ اور امریکہ-ایران مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تھی، ایرانی حکام نے بھی پاکستان کی ثالثی کو سراہا اور اسے خطے کے امن پسند ممالک کے درمیان تعاون کی بہترین مثال قرار دیا ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کیں ۔
پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے سفارتی، معاشی اور فوجی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے قریبی رابطے میں رہے ہیں ۔
کونسل کے بیان میں واضح کیا گیا کہ کوئی بھی فیصلہ صرف ایرانی قومی مفادات کے مطابق ہی کیا جائے گا،تجاویز کی تفصیلات ابھی عام نہیں کی گئیں، البتہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، بیلسٹک میزائل پروگرام، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور معاشی پابندیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں ۔
اسلام آباد میں ہونے والی 21 گھنٹے کی طویل بات چیت میں تعطل کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران سے جنگ بندی کی نئی امید پیدا ہوئی ہے ۔
سعودی عرب، چین، روس اور ترکی سمیت کئی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اگر ایران نے ان تجاویز کا مثبت جواب دیا تو خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے، تاہم ابھی تک ایران کی طرف سے کوئی حتمی موقف سامنے نہیں آیا، مزید پیش رفت کا انتظار ہے ۔

