اسلام آباد: پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہم اکارڈز (Abraham Accords) میں شمولیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن سمیت کئی مسلم ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ابراہم معاہدے کا حصہ بنیں تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جا سکیں۔
تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس تجویز کو فوری طور پر رد کر دیا ہے۔ پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق ایران سے متعلق سفارتی کوششیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی دو الگ معاملات ہیں اور انہیں آپس میں جوڑنا درست نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پر اس حوالے سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان ایسے کسی مطالبے کو قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ابراہم معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہیے، کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہیں اور اس پر مؤقف بالکل واضح ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کئی ممالک اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات بھی ایک بڑے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
تاہم بعض ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کو سیاسی دباؤ اور خطے میں نئی سفارتی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کچھ تجزیہ کار اسے ایک “سیاسی بیانیہ” قرار دے رہے ہیں۔

