تہران: ایران میں جنوری کے دوران ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں سے متعلق مقدمات میں سزائے موت پانے والے دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق دونوں افراد کو حکومت مخالف احتجاجی سرگرمیوں، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے، ایک مسجد کو آگ لگانے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد تہران کے علاقے گیشا میں واقع جعفری مسجد پر حملے کے مرکزی ملزمان میں شامل تھے۔
میزان نیوز ایجنسی کے مطابق متعلقہ عدالتوں سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد ایران کی سپریم کورٹ نے بھی ان سزاؤں کو برقرار رکھا، جس کے بعد ان پر عملدرآمد کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ برس کے آخر میں معاشی مشکلات، مہنگائی اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ یہ مظاہرے بعد ازاں ملک کی حکمران مذہبی قیادت کے خلاف وسیع عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گئے تھے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران بعض عناصر نے پرتشدد کارروائیوں اور سرکاری و مذہبی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جبکہ ناقدین اور انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں ان مقدمات اور سزاؤں پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

