گلگت بلتستان میں 24 حلقوں پر عام انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے ختم ہوگیا جبکہ ووٹوں کی گنتی جاری ہے ۔
گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے۔ 24 براہ راست منتخب ارکان، 6 خواتین نشستیں، 3 نشستیں ٹیکنو کریٹس کیلیے مختص ہیں ۔
حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہے، پیپلز پارٹی کے 23 امیدوار، ن لیگ کے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوارمیدان میں ہیں ۔
علاوہ ازیں ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6،6 امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار اور 7 خواتین امیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ۔
الیکشن کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار780 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 3 ہزار 772 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 708 ہے ۔
24 حلقوں میں 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار ہیں۔ دیامر اور اسکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم اضلاع ہیں دونوں اضلاع میں چار، چار انتخابی حلقے ہیں ۔
انتخابات کے لیے 1368پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، انتخابی عمل کے دوران 15 ہزار پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔
الیکشن کے لیے 1368 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے480 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس، 350 حساس، 457 نارمل قرار دیئے گئے ہیں ۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کرکے انتخابی عمل، سیکیورٹی انتظامات اور پولنگ کے ماحول کا جائزہ لیا ۔

