پیرس: فرانسیسی جریدے لی موند نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے خطرناک موڑ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی جریدے نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارت نے اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
جریدے نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا اور اس میں تبدیلی صرف دونوں ممالک کے اتفاق سے ممکن ہے۔
فرانسیسی جریدے کے مطابق مستقل ثالثی عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ ہے۔
بھارت کی جانب سے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم فراہمی پاکستان کے لیے سیلابی پیشگی وارننگ کو مشکل بنا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی پنجاب کے کسان اچانک سیلاب، فصلوں کی تباہی اور زمین پر ریت کی تہہ سے شدید متاثر ہوئے۔
دریائے چناب کے کنارے آباد خاندانوں نے مویشی، فصلیں اور گھروں کا سامان کھو دیا۔
جریدے نے پاکستانی موقف کو بھی اجاگر کیا کہ پانی کی بندش یا موڑنے کی کوشش سنگین اشتعال انگیزی تصور ہوگی۔
بھارتی قیادت کے بیانات کو پانی کے سیاسی استعمال کی واضح مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے پانی روکنے کی دھمکی پر پاکستان نے اسے واٹر ٹیررازم قرار دیا۔
لی موند نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق، زراعت، خوراک اور بقا کا معاملہ ہے۔

