Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 11, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ
    • پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
    • راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک
    • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
    • اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا
    • حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کیلئے اہم فریضہ ہے، وزیراعظم شہبازشریف
    • بنوں: ایک اور پولیس اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا شکار، تین روز میں 3 اہلکار شہید
    • پشاور ہائی کورٹ کا دو افغان صحافیوں کو ڈی پورٹ کرنے سے روکنے کا حکم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مقدمات سے پہلے مصالحت کو ترجیح دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اورنگزیب
    اہم خبریں جون 8, 2026

    مقدمات سے پہلے مصالحت کو ترجیح دے کر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جسٹس حسن اورنگزیب

    Facebook Twitter Email
    The burden of cases on the courts can be reduced by prioritizing reconciliation before litigation, says Justice Hassan Aurangzeb
    عدالتوں میں زیر التوا بائیس لاکھ ساٹھ ہزار مقدمات ایک بحران کی نشاندہی کرتے ہیں، وزیر قانون بیرسٹر عقیل ملک
    Share
    Facebook Twitter Email

    سپریم کورٹ کےجج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے تنازعات کے حل کیلئے’’عدالت سے پہلے مصالحت‘‘  کے تصور کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے نظامِ انصاف کو عدالتی مقدمات پر انحصار کم کرکے ثالثی کو ترجیح دینی چاہیے ۔

    اسلام آباد: انہوں نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) عارف حسین خلجی اور وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کے ہمراہ ایک جامع اصلاحاتی پیکیج کی حمایت کی جس کا مقصد محنت کشوں اور تجارتی تنازعات کے حل کیلئے ثالثی کو ترجیحی راستہ بنانا ہے ۔

    یہ اصلاحاتی پیکیج ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء (آر ایس آئی ایل) اور لیگل ایڈ سوسائٹی (ایل اے ایس) نے پیش کیا، جس کے ساتھ ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے، رپورٹ میں متبادل تنازعاتی حل ایکٹ 2017 (ADR Act 2017) کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے اور پہلے سے مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی عدالتوں پر دباؤ کم کرنے کیلئے قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں ۔

    تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پاکستان کے قانونی کلچر میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے نظامِ انصاف کیلئے ‘عدالت سے پہلے مصالحت’ کے عنوان سے ایک نیا نصب العین تجویز کیا ۔

    ترکی کے اپنے حالیہ مطالعاتی دورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی وہ متعدد ادارہ جاتی بنیادیں موجود ہیں جن کی مدد سے کامیاب ثالثی ماڈلز کو اپنایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ قومی صنعتی تعلقات کمیشن (این آئی آر سی) میں بعض طریقہ کار کی خامیوں کے باعث ایسے تنازعات بھی عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں جو ابتدائی مرحلے میں ثالثی کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں ۔

    جسٹس اورنگزیب نے ان ادارہ جاتی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی جو اصلاحاتی عمل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آئی آر سی طویل عرصے تک چیئرمین کے بغیر کام کرتا رہا جبکہ بعض مواقع پر کمیشن کے ارکان انتظامی صوابدید کے رحم و کرم پر رہے۔ ان کے مطابق اگر این آئی آر سی میں مجوزہ ثالثی مرکز کو کامیاب بنانا ہے تو بنیادی ادارے کو مضبوط، خودمختار اور مکمل افرادی قوت سے لیس ہونا ہوگا ۔

    اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان کا نظامِ انصاف ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں زیر التوا 22 لاکھ 60 ہزار سے زائد مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیک لاگ صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی بحران بھی ہے جو لوگوں کے حقوق، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے ۔

    انہوں نے ’’مقدمہ بازی سے پہلے ثالثی‘‘ کے تصور کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے قانونی اخراجات نے اصلاحات کو ناگزیر بنا دیا ہے، بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ثالثی سے متعلق سنگاپور کنونشن پر پاکستان کے دستخط جدید تنازعاتی حل کے طریقہ کار سے متعلق حکومت کے عزم کا ثبوت ہیں اور اس کنونشن کو ملکی قانون کا حصہ بنانے کیلئے قانون سازی پر کام جاری ہے ۔

    سپریم کورٹ کے سابق جج اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے چیئرمین جسٹس (ر) عارف حسین خلجی نے ثالثی کو تنازعات کے حل کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیگل ایڈ سوسائٹی روزانہ دو سے تین مقدمات نمٹاتی ہے جبکہ اس کی کامیابی کی شرح تقریباً 74 فیصد ہے ۔

    انہوں نے ترکی کی جانب سے ثالثی کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو پاکستان کیلئے قابلِ تقلید قرار دیا اور کہا کہ انصاف کے نظام میں اصلاحات کی بنیاد سائلین کے ساتھ ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری ہونی چاہیے ۔

    آر ایس آئی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جمال عزیز نے رپورٹ کے اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی اور ادارہ جاتی سطح پر پیش رفت کے باوجود متبادل تنازعاتی حل کے نظام سے وابستہ انقلابی تبدیلی ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کو مطلوبہ پیمانے پر ثالثی کیلئے ریفر نہیں کیا جا رہا جبکہ زیر التوا مقدمات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔

    وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کر چکی ہے، اے ڈی آر ایکٹ میں ترامیم پر کام جاری ہے جبکہ مناسب معاملات میں ثالثی اور مصالحتی طریقہ کار کو لازمی بنانے کے امکانات بھی زیر غور ہیں ۔

    تقریب کے اختتام پر آر ایس آئی ایل کے صدر احمر بلال صوفی نے مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی صرف قانونی طریقہ کار میں اصلاحات کا نام نہیں بلکہ تنازعہ کے بڑھنے سے پہلے غور و فکر اور مکالمے کو فروغ دینے کا عمل بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں کی پاسداری اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول ہے اور یہی اصول ثالثی کے نظام کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی 9 نشستوں پر کامیاب، غیر سرکاری نتائج
    Next Article ايوان صدر میں اہم اجلاس، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاق
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ

    اگست 11, 2026

    پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    اگست 11, 2026

    راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک

    اگست 11, 2026

    Comments are closed.

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ

    اگست 11, 2026

    پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    اگست 11, 2026

    راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک

    اگست 11, 2026

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو پورا پاکستان ڈی چوک بنادیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    اگست 10, 2026

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

    اگست 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.