اسلام آباد/نئی دہلی: ذرائع کے مطابق بھارت لائن آف کنٹرول کے پار اپنی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانے اور طویل المدتی تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے ایک نئے حساس آپریشنل مرحلے پر غور کر رہا ہے، جسے عارضی طور پر "آپریشن سندور 2.0” کا نام دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزارتِ دفاع سے منسوب ایک مبینہ خفیہ دستاویز میں وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر کی جانب سے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کو ہدایت دی گئی ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ایسی جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے جس میں لائن آف کنٹرول کے پار مختلف آپشنز کا بھی احاطہ کیا جائے۔
دستاویز کے مطابق آزاد کشمیر کی سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی صورتحال کو بھارت کے طویل المدتی تزویراتی مقاصد کے لیے سازگار قرار دیا گیا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ اقدامات کے نتیجے میں بعض مخالف نیٹ ورکس کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جسے نئی دہلی ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ حکمتِ عملی کے اہم نکات میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجی اور سیکیورٹی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانا، سرحدی اور مقامی سطح پر معاون نیٹ ورکس کے ساتھ روابط کو فعال بنانا اور آئندہ مرحلے کے لیے مختلف آپریشنل آپشنز کی تیاری شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزارتِ دفاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ آپریشنل منصوبہ بندی اور ممکنہ فورس اسٹرکچر سے متعلق سفارشات تیار کرکے قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس میں پیش کی جائیں۔ منظوری کی صورت میں یہ تجاویز وزیرِ دفاع کو حتمی فیصلہ سازی کے لیے بھجوائی جائیں گی۔
دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات لائن آف کنٹرول کی صورتحال اور جنوبی ایشیا کے جیوپولیٹیکل منظرنامے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم دستاویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام اقدامات قومی پالیسی اور بین الاقوامی ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جائیں۔
مبصرین کے مطابق اس قسم کی پیش رفت خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی ماحول پر اثرانداز ہو سکتی ہے، جبکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلے سے موجود حساس صورتحال مزید توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔

