پشاور (حسن علی شاہ): رکن خیبرپختونخوا اسمبلی ارباب عثمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور کی تاریخی نمک منڈی مبینہ طور پر جعلی ادویات کی خرید و فروخت کا ایک بڑا مرکز بن چکی ہے، جہاں سے صوبے کے مختلف اضلاع میں مضر صحت ادویات سپلائی کی جا رہی ہیں۔
اپنے ایک بیان میں ارباب عثمان نے کہا کہ بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات کے اصل ناموں سے مشابہ نام استعمال کرتے ہوئے مقامی سطح پر ایسی ادویات تیار کی جا رہی ہیں، جن کی پیکنگ بھی اصل مصنوعات سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پشاور کی بعض صنعتی بستیوں میں قائم فارماسیوٹیکل یونٹس میں مبینہ طور پر ایسی ادویات تیار کی جا رہی ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر اور قابل ذکر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
ارباب عثمان نے کہا کہ جعلی اور غیر معیاری ادویات نہ صرف عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ یہ ادویات کے شعبے پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
انہوں نے اخبار خیبر کے توسط سے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

