سری نگر: مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض انتظامیہ نے کشمیریوں کو گھروں، زمینوں اور دیگر املاک سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ریاسی اور رام بن اضلاع میں مزید 16کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر ضلع رام بن میں گیارہ افراد کی مجموعی طورپر 15کنال اور 3مرلہ اراضی جبکہ ضلع ریاسی میں پانچ کشمیریوں کی 1.7ہیکٹر اراضی ضبط کر لی۔
بی جے پی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیریوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر جائیدادوں پر قبضے کا سلسلہ تیز کر دیا جس کا بنیاد ی مقصد انہیں معاشی طور پر مفلوک الحال بنانا اور خوف ودہشت کا شکار کر کے تحریک آزادی سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر سے ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی استعماری ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیریوں سے انکا سب کچھ چھیننے اور فوجی طاقت کے بل پر علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنے پر تلا ہوا ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے ایک بیان میں بیگناہ نوجوانوں کی مسلسل گرفتاری اور املاک کی ضبطی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری بھارتی قبضے کے خلاف قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رقم کررہے ہیں۔
ترجمان نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

