اسلام آباد: پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کی نمائندہ تنظیم (سی بی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے وارچہ راک سالٹ کان کی لیز منسوخ کیے جانے سے 20 کروڑ ڈالر کی مجوزہ غیر ملکی سرمایہ کاری، ہزاروں ملازمتیں اور معدنی شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سی بی اے کے سیکریٹری جنرل حاجی رائے مظہر اقبال کھرل نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کی وارچہ کان کی لیز قانون کے مطابق مارچ 2032 تک مؤثر ہے، تاہم پنجاب حکومت نے اسی علاقے کی لیز 10 سال کے لیے نجی کمپنی سیفائر کیمیکلز کو نیلام کر دی، جس کے تحت حکومت پنجاب کو ماہانہ ایک کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ 10 برس میں مجموعی طور پر 2 ارب 58 کروڑ روپے ملیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی یہ رقم صرف 2 سے 3 سال میں حکومت کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے تحت راک سالٹ کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے جدید منصوبے لگائے جانے تھے، جن سے روزگار، برآمدات اور زرمبادلہ میں نمایاں اضافہ متوقع تھا۔
رائے مظہر اقبال کھرل نے بتایا کہ لیز کا معاملہ اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ یونین رہنماؤں نے خبردار کیا کہ قانونی تنازع کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور وفاقی و پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے روزگار، قانونی معاہدوں اور قومی معدنی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

