شینزن: وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے ایشیا بحرالکاہل میڈیا فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ایشیا بحرالکاہل خطے میں مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ڈاکٹر شذرہ نے کہا کہ پائیدار شراکت داریاں صرف سڑکوں، بندرگاہوں اور سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ مشترکہ کہانیوں، اعتماد اور باہمی مفاہمت سے بھی تشکیل پاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا فورم وزرا، پالیسی سازوں، میڈیا رہنماؤں، صحافیوں، ماہرین، کاروباری نمائندوں اور تھنک ٹینکس کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا اہم ذریعہ ہے، جہاں علاقائی تعاون کے نئے راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
وزیر مملکت نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو ’’چٹان کی طرح مضبوط‘‘ قرار دیا۔
ڈاکٹر شذرہ نے کہا کہ دونوں ممالک 75 سالہ سفارتی تعلقات کے دوران مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
اب مشترکہ مستقبل کی حامل مزید مضبوط شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر شذرہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعاون کا دائرہ معیشت، رابطہ کاری، زراعت، معدنیات، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، سبز ترقی، تعلیم اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو دوطرفہ تعاون کا اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔
سی پیک میں بنیادی ڈھانچے کے بجائے صنعتی ترقی، برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔
ڈاکٹر شذرہ نے کہا کہ سی پیک کے تحت معاشی تبدیلی کی داستان درست، مسلسل اور ذمہ دارانہ میڈیا کوریج کی مستحق ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان خبر رساں اداروں، نشریاتی اداروں، فلم اور دستاویزی شعبوں کے علاوہ مواد کے تبادلے اور ادارہ جاتی روابط کے ذریعے میڈیا تعاون کا وسیع نظام موجود ہے۔
انہوں نے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور (سی پی آئی سی) کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد میڈیا، تھنک ٹینکس، جامعات، نوجوانوں، کاروباری اور ثقافتی حلقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا اور منظم معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر شذرہ منصب نے چین اور وسیع تر ایشیا بحرالکاہل خطے کے ساتھ پاکستان کے میڈیا، ثقافتی، معاشی اور عوامی روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

