گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے چارسدہ میں شہید ڈی ایس پی عمران الدین اور سپاہی کاظم جان کی رہائش گاہوں پر آمد کے موقع پر جاں بحق اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور درجات کی بلندی و ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی ۔
چارسدہ: اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہے، شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے، دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور انہیں قابو کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ہماری فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑا گیا اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا، افغانستان کے ساتھ سرحد بہت طویل ہے، کہیں نہ کہیں سے سرحدی نگرانی میں خلا رہ جاتا ہے، دہشت گردوں کے پاس ایسا جدید اسلحہ موجود ہے جو ہمارے پاس بھی نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے واضح کیا ہے کہ عوام کو دہشت گردوں سے الگ رہنا ہوگا، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران ضمنی نقصان کا خدشہ موجود رہتا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ دہشت گردوں کو اپنے درمیان پناہ نہ دیں اور ان سے خود کو الگ رکھیں ۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کرکے پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کریں گے، محسن نقوی نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ پولیس کو جتنے اسلحے اور فنڈز کی ضرورت ہوگی، فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں ۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے صوبے کو 800 ارب روپے ملے لیکن یہ رقم خرچ نہیں کی جا سکی، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور دہشت گردوں کو قابو کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ماضی میں صوبائی حکومت دہشت گردوں اور افغانستان کے معاملے پر بیان دینے سے بھی گریز کرتی تھی ۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ جو پاکستان کے خلاف ہوگا اور آئین کو تسلیم نہیں کرے گا، اس کے ساتھ مذاکرات یا کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے ۔
معدنی وسائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ہمارے پاس معدنی وسائل تو ہیں لیکن انہیں بروئے کار لانے کے لیے درکار وسائل کی کمی ہے، معدنیات کی تلاش اور نکالنے کے لیے پاکستانی کمپنیوں کو پہلی ترجیح دی جائے گی، اگر پاکستانی کمپنیوں کے پاس مطلوبہ وسائل نہ ہوئے تو بیرونی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ معدنیات پر پہلا حق عوام، دوسرا صوبے اور اس کے بعد کسی تیسرے فریق کا ہوگا، امن کے قیام کے بعد معدنی وسائل اور سیاحت کے شعبوں کو ترقی دینا چاہتے ہیں ۔
سہیل آفریدی سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سہیل آفریدی محفوظ ہاتھوں میں ہیں، مستقبل کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔

