منصورہ میں حکومتی وفد اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی اور اس دوران مذاکرات بھی ہوئے ،حکومتی وفد میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے ۔
لاہور: مذاکرات کے دوران حکومتی وفد کا کہنا تھا کہ ملک میں کسی بھی بدامنی سے دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے اور تخریب کار عوامی اجتماعات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔
حکومتی نمائندوں نے تسلیم کیا کہ عالمی حالات اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مشکلات بڑھی ہیں، تاہم حکومت عوام کو ریلیف دینے کی خواہشمند ہے اور پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر جماعت اسلامی کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا ۔
وفد نے جماعت اسلامی سے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے کر باضابطہ مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی۔
دوسری جانب، حافظ نعیم الرحمان نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا کسی ذاتی ایجنڈے کے لیے نہیں بلکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کی فلاح کے لیے ہے ۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں غربت بڑھ رہی ہے اور حکومت نے ہدف سے زائد 100 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں اکٹھے کیے ہیں ۔
انہوں نے آئی پی پیز کے غلط معاہدوں اور کیپسٹی پیمنٹس کو مہنگائی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی فوری ختم کی جائے، پیٹرول سستا کیا جائے اور روٹی کی قیمت کم کر کے 10 روپے کی جائے۔
ملاقات کے اختتام پر حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ حکومتی درخواست کے باوجود دھرنے موخر نہیں کیے جائیں گے بلکہ دھرنے اور مذاکرات کا عمل متوازی طور پر جاری رہے گا، اس مقصد کے لیے امیر جماعت اسلامی نے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایک خصوصی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے ۔

