یورپی یونین کے وفد، ٹیم یورپ اور یوکرین کے سفارت خانے کی جانب سے بدھ کے روز روس کی فوجی جارحیت کے چار سال مکمل ہونے پر پولینڈ کے سفارت خانے میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سفارت کاروں، سیاستدانوں، صحافیوں، تھنک ٹینک کے نمائندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی اور یوکرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ۔
اسلام آباد: اس موقع پر یوکرینی شہریوں پر جنگ کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ اور فوٹو نمائش بھی کی گئی ۔
تقریب میں سفارت کاروں، سیاستدانوں، صحافیوں، تھنک ٹینک کے نمائندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی اور یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، شرکاء نے یوکرین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کو دہرایا ۔
یورپی یونین، ٹیم یورپ اور یوکرینی سفارت خانے کے مشترکہ بیان میں روس کی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ۔
بیان میں روس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر جارحیت روکے، اپنی افواج واپس بلائے اور بامعنی امن مذاکرات میں حصہ لے ۔
یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 2026 اور 2027 کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے کی منظوری کا اعلان کیا ہے جو یوکرین کی مالی ضروریات کا دو تہائی حصہ پورا کرے گا ۔
اس میں 60 ارب یورو فوجی امداد اور 30 ارب یورو بجٹ سپورٹ کے لیے مختص ہیں۔ یورپی یونین روس پر پابندیاں جاری رکھے گی، بشمول توانائی کی درآمدات میں کمی اور روسی تیل کی مصنوعات پر پابندی ۔
یوکرینی سفیر مارکیان چچک نے خطاب کرتے ہوئے "یوکرین کی آزادی کی چار سالہ جدوجہد” کا ذکر کیا۔ انہوں نے جنگ کے انسانی نقصانات کی تفصیلات بتائیں، جن میں ایک لاکھ سے زائد روسی ہلاکتیں، ہزاروں یوکرینی شہریوں کی موت، بچوں کی اغوا اور لاکھوں افراد کا بے گھر ہونا شامل ہے ۔
انہوں نے روس کی سامراجی خواہشات کی مذمت کی اور پاکستان کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسلام آباد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی ۔
یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے ٹیم یورپ کی جانب سے یوکرین کی ثابت قدمی کی تعریف کی اور شہریوں، توانائی اور نقل و حمل کے انفراسٹرکچر پر روسی حملوں کی مذمت کی۔ جرمن سفیر ایانا لیپل اور پولش سفیر میچیج پسارسکی نے بھی یورپی حمایت دہرائی، روسی جنگی جرائم کی مذمت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ۔
شرکاء نے اتفاق کیا کہ روس کی جارحیت کے خاتمے، جنگی جرائم کی جوابدہی اور عالمی سطح پر مربوط کوششوں کے ذریعے ہی منصفانہ امن ممکن ہے۔ یہ تقریب یوکرین کے لیے بین الاقوامی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے ۔

