Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    • حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
    • ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار
    • سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان
    • پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک
    • افغان وزارت دفاع نے بگرام ایئربیس پر پاکستانی فضائی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
    • سرحدی دہشت گردی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، بفر زون حکمت عملی سامنے آگئی
    • پاکستان کو غیر مستحکم کرنےکے لیے کسی کو ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے: صدر مملکت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!
    بلاگ

    شخصیت کی جنگ میں گم ہوتا صوبہ!

    فروری 13, 2026Updated:فروری 13, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    A province lost in the battle of personality
    صوبے کے مسائل کے حل پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج بھی صوبے میں مقامی عوامی نمائندے سراپا احتجاج ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم  میں تحریک انصاف نے صوبے کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے، سوال مگر یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا جیسے حساس اور چیلنجز سے بھرے صوبے میں ایک فرد کی رہائی کو عوامی مسائل پر فوقیت دینا دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے؟ اور کیا پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی توانائی کا رخ درست سمت میں رکھا ہے؟باوجود اس کے کہ صوبے کے عوام کو آج جن مسائل کا سامنا ہے  وہ ماضی میں کبھی نہیں تھے ۔

    خیبر پختونخوا کو درپیش مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، دہشت گردی کے واقعات، معاشی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں خلا ،بے روزگاری، مہنگائی ( جو دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ ہے، سخت ترین سرد موسم میں بھی بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا عذاب، یہ سب ایسے چیلنجز ہیں جو فوری اور مسلسل توجہ چاہتے ہیں، صوبائی حکومت کا اولین فریضہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال اور معاش کو تحفظ فراہم کرے ۔

    مگر عملی منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات کا محور ایک ہی مطالبہ بن چکا ہے: عمران خان کی رہائی۔ پارٹی کے بانی ہونے کے ناطے تحریک انصاف کے قائدین اس میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنے پارٹی سربراہ کی رہائی کیلئے جدوجہد کریں لیکن جدوجہد ایسی ہو کہ جس سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہو اور اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا جائے ، یہ کسی طور بھی مناسب نہیں ۔

    پی ٹی آئی کی سیاست طویل عرصے سے ایک شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے، مگر جب حکمرانی شخصیت کے گرد محدود ہو جائے تو پالیسی سازی پس منظر میں چلی جاتی ہے، یہی تاثر آج خیبر پختونخوا میں موجود ہے ، صوبے کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں، خوشحالی ان کو بھی ملنی چاہیے، بنیادی ضروریات ان کو فراہم کرنا بھی ضروری ہے ۔

    سوال یہ نہیں کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں ، یہ عدالتوں کا دائرہ اختیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی حکومت کو اپنی انتظامی اور سیاسی توانائی کا بڑا حصہ اسی ایک مقصد پر صرف کرنا چاہیے؟ جب کہ صوبہ متعدد بحرانوں سے گزر رہا ہو؟اور صوبائی حکومت کو اپنے قائد کی رہائی کے علاوہ دوسرا کوئی مسئلہ نظر ہی نہ آ رہا ہو ۔

    صوبے کے عوام کو روزگار، امن، بنیادی ڈھانچے اور سماجی سہولیات درکار ہیں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور حکومت کی توجہ قومی سطح کی سیاسی مہم پر مرکوز ہے، تو یہ گورننس کی ناکامی سمجھی جائے گی اور اب تک تحریک انصاف اس میں ناکام ہی نظر آ رہی ہے ۔

    ایک بالغ سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جو بیک وقت دو محاذ سنبھال سکے، قانونی اور سیاسی جدوجہد اور انتظامی کارکردگی اور عوامی خدمت،اگر دوسرا پہلو کمزور ہو جائے تو پہلا نعرہ بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک شخص پر اتنی توجہ دی گئی کہ صوبے میں آج بھی بلدیاتی نمائندے سراپا احتجاج ہیں ۔

    سیاسی سرمایہ نعروں سے نہیں بلکہ نتائج سے بنتا ہے، اگر خیبر پختونخوا میں امن بہتر ہو، معیشت مستحکم ہو اور عوام کو ریلیف ملے، تو عمران خان کی رہائی کی مہم کو بھی زیادہ اخلاقی قوت حاصل ہوگی، مگر اگر صوبے کی کارکردگی کمزور ہو اور تمام توجہ ایک فرد کی قسمت پر مرکوز رہے، تو ناقدین کے لیے یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ پارٹی نے صوبے کو سیاسی مہم کا اکھاڑا بنا دیا ہے ۔

    حکمرانی کی اصل کسوٹی عوامی فلاح ہے۔ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں قیادت کا امتحان اس بات سے ہوگا کہ وہ شخصیات سے بالاتر ہو کر اداروں کو مضبوط کرے، امن قائم کرے اور معاشی استحکام لائے، اگر پی ٹی آئی واقعی عوامی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایک فرد کی رہائی سے زیادہ اہم عوام کی بھلائی ہے ، ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا جائے گا کہ صوبہ ایک سیاسی بیانیے کی نذر ہو چکا ہے، اور اصل مسائل انتظار میں کھڑے ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیرِاعظم شہبازشریف کا بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کو ٹیلیفون ، کامیابی پر مبارکباد
    Next Article حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے: آئی ایم ایف
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    امن کی کنجی کابل کے ہاتھ میں !

    فروری 22, 2026

    غربت کی نئی لہر اور معیشت کا کڑا امتحان

    فروری 21, 2026

    رہائی فورس کا اعلان،سیاسی وفاداری یا تصادم کا حتمی فیصلہ ؟

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام

    مارچ 3, 2026

    حکومت ما لیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو مزید مضبوط بنائے گی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    مارچ 3, 2026

    ایران اور خلیجی ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے تمام تر اقدامات کررہے ہیں، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار

    مارچ 3, 2026

    سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، امریکی ڈالر 1 پیسہ ارزان

    مارچ 3, 2026

    پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری، جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون اسٹوریج تباہ، 67 افغان اہلکار ہلاک

    مارچ 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.