Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, مارچ 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار
    • ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان
    • پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال
    • رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان
    • امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے
    • پاک افغان سرحد پر بلوچستان میں پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی، 50 سے زائد مقامات پر آپریشن جاری
    • پاکستان کا افغان حکومت سے نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کی فوری حوالگی کا مطالبہ
    • جنگلی حیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت کا عالمی یومِ جنگلی حیات پر پیغام
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشاور میں افغان مہاجرین کا وطن واپسی پر تحفظات، ڈیڈ لائن میں توسیع کا مطالبہ
    پشاور سٹی

    پشاور میں افغان مہاجرین کا وطن واپسی پر تحفظات، ڈیڈ لائن میں توسیع کا مطالبہ

    ستمبر 2, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور (حسن علی شاہ) پشاور میں چار دہائیوں سے آباد افغان مہاجرین نے وطن واپسی کے حوالے سے اپنے خدشات اور مشکلات کا اظہار خیبر نیوز کے پروگرام کراس ٹاک میں کیا۔ یہ خصوصی شو بورڈ بازار میں ریکارڈ کیا گیا جہاں سینکڑوں افغان تاجر، دکاندار اور ریڑھی بان اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں۔

    میزبان محمد وسیم سے گفتگو میں افغان مہاجرین نے کہا کہ اگرچہ افغانستان ہمارا وطن ہے لیکن وہاں نہ تو ہمارے گھر ہیں اور نہ ہی کاروبار، ساتھ ہی علاج معالجے اور دیگر سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ وہ کپڑوں کی دکان چلاتا ہے اور لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کرچکا ہے، اب اگر واپسی ہوتی ہے تو اس سرمایہ کا کیا ہوگا؟ اس نے مزید کہا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ تو اپنا ملک دیکھ بھی نہیں سکے۔

    دیگر افغان تاجروں اور مزدوروں نے بتایا کہ وہ گزشتہ چالیس سال سے پشاور میں رہائش پذیر ہیں اور یہاں کے پشتون بھائیوں نے ہمیشہ عزت اور محبت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام ہماری خوشیوں اور غمیوں میں شریک رہے ہیں، بلکہ بہت سے خاندانوں میں ازدواجی رشتے بھی قائم ہوچکے ہیں۔

    مہاجرین نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ اگرچہ اپنی سرزمین ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے لیکن واپسی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے تاکہ ہم اپنے تعلیمی، کاروباری، سماجی اور نجی معاملات کو مناسب طریقے سے حل کرسکیں۔ ان کے مطابق پشاور میں ان کا جینا مرنا بھائیوں جیسا ہے اور اسی بھائی چارے نے انہیں یہاں مضبوطی سے جوڑ رکھا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبر ٹی وی پشاور کا تفریحی و نصیحت آموز ڈرامہ ’’گارڈ روم‘‘ ناظرین کی توجہ کا مرکز
    Next Article ٹیرف کے اثرات، بھارتی روپیہ کم ترین سطح پر
    Web Desk

    Related Posts

    شاہراہِ امن| قومی امن و سلامتی پر مبنی خصوصی پروگرام

    فروری 25, 2026

    لبیک یار رمضان: خودمختار ساوی کا دسترخوان مستحقین کے لیے سج گیا

    فروری 23, 2026

    خودمختار ساوی کے ذریعے پشاور کے 50 مستحقین میں رمضان پیکیج تقسیم

    فروری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026

    ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان

    مارچ 4, 2026

    پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال

    مارچ 4, 2026

    رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان

    مارچ 4, 2026

    امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے

    مارچ 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.