افغانستان کے پہلے اور واحد خلا باز عبدالاحد مومند کو جرمنی سے کابل منتقل کیے جانے کے بعد سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ عبدالاحد مومند چند روز قبل جرمنی کے شہر شٹوٹگارٹ میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے۔
ان کی میت جرمنی سے کابل پہنچنے پر کابل ایئرپورٹ پر فوجی دستے نے سرکاری اعزاز کے ساتھ وصول کی اور سلامی پیش کی۔ میت کی وطن واپسی کے انتظامات افغانستان کی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور وزارت ہوابازی نے مشترکہ طور پر کیے۔
مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین میں حکومتی اعلیٰ حکام، اہل خانہ، دوستوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
عبدالاحد مومند 1992 سے جرمنی میں مقیم تھے۔ انہوں نے 1988 میں سابق سوویت یونین کے خلائی مشن کے تحت خلا کا سفر کر کے افغانستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ وہ افغانستان کے پہلے اور اب تک واحد شہری ہیں جنہوں نے خلا کا سفر کیا۔
خلائی مشن کے دوران انہوں نے اپنی مادری زبان پشتو میں گفتگو کی، جس کے بعد پشتو خلا میں بولی جانے والی زبانوں میں شامل ہونے والی چوتھی زبان بن گئی۔ عبدالاحد مومند دنیا کے چوتھے مسلمان خلا باز بھی تھے اور وہ پہلے خلا باز تھے جو اپنے ساتھ قرآنِ پاک کا نسخہ خلا میں لے گئے، جہاں انہوں نے اس کی تلاوت بھی کی۔ انہوں نے خلا میں مجموعی طور پر نو دن گزارے اور اپنے اس تاریخی مشن کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

