آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔ یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل ان نشستوں کی حیثیت سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنی ہوئی تھی۔
صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے 46 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ مہاجر نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت مکمل آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی اقدام یا حکومتی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ان نشستوں کے ڈھانچے یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

