خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ایف آئی اے امیگریشن حکام نے انہیں جرمنی جانے سے روک دیا۔
صوبائی وزیر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبنگن کی دعوت پر وہاں روانہ ہو رہے تھے، تاہم پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن حکام نے انہیں سفر کی اجازت نہیں دی۔
مینا خان آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کے دورۂ جرمنی کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا کی جامعات اور طلبہ کے لیے تعلیمی تعاون اور مشترکہ منصوبوں کو حتمی شکل دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ صوبے کے تعلیمی شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔
صوبائی وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس پشاور ہائی کورٹ کے احکامات موجود تھے، اس کے باوجود انہیں بیرونِ ملک سفر سے روکنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب، مینا خان آفریدی کو ایئرپورٹ پر روکنے کے معاملے پر حکومتی حلقوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعے کی وجوہات اور متعلقہ حکام کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ اس معاملے پر مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔

