Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اگست 31, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    • بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
    • وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
    • مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک
    • پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے روڈ میپ کیلئے استنبول میں ہہلا اجلاس
    • انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دیدی
    • پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا کی للکار: بھیک کا کاروبار بند ہوگا!
    اہم خبریں اپریل 15, 2025

    خیبرپختونخوا کی للکار: بھیک کا کاروبار بند ہوگا!

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    تحریر: اصف علی یوسفزئی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے میں بڑھتی ہوئی پیشہ ورانہ گداگری کے مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے مربوط قانون سازی اور مؤثر حکمتِ عملی کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گداگری کو ایک سماجی، معاشی اور قانونی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مربوط کوششیں کی جائیں گی۔

    "خیبرپختونخوا ویگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبیلیٹیشن ایکٹ” کی تیاری

    وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ فوری طور پر اس مقصد کے لیے ایک مسودہ قانون تیار کیا جائے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد بچوں، معذوروں، خواتین اور نشے کے عادی افراد کو گداگری جیسے انسانیت سوز دھندے سے بچانا اور ان کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔

    کمیٹی کی تشکیل اور آپریشنل فریم ورک

    سوشل ویلفیئر سیکریٹری کی سربراہی میں ایک ملٹی ڈیپارٹمنٹل کمیٹی قائم کی جائے گی۔

    کمیٹی میں محکمہ قانون، پولیس، بلدیات، چائلڈ پروٹیکشن کمیشن، NGOs اور دیگر ادارے شامل ہوں گے۔

    کمیٹی 30 دن کے اندر قانون کا مسودہ اور اس کا آپریشنل فریم ورک تیار کرے گی۔

    مجرمانہ گداگری کی درجہ بندی اور سزائیں

    بچوں، خواتین یا معذور افراد کو زبردستی گداگری پر مجبور کرنا الگ جرم قرار دیا جائے گا۔

    گداگروں کو پناہ دینے یا ان سے مالی فائدہ اٹھانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی جائیں گی۔

    پولیس، سوشل ویلفیئر اور لوکل گورنمنٹ کے نامزد افسران کو نفاذ کا اختیار حاصل ہوگا۔

    عملی اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

    بائیومیٹرک شناختی نظام

    نو بیگنگ زونز کا قیام

    CCTV کی مدد سے مانیٹرنگ

    واٹس ایپ ہاٹ لائن کا اجرا

    شیلٹر ہومز، بحالی مراکز، ووکیشنل ٹریننگ، نشہ چھڑانے کے مراکز

    ماہرین نفسیات، سوشل ورکرز، ڈاکٹرز اور اقبال ہسپتال جیسے اداروں کی شمولیت

    تجزیاتی تناظر: بین الاقوامی مثالیں اور صوبائی بصیرت

    اگرچہ اس اجلاس میں براہ راست بین الاقوامی کیسز پر بات نہیں ہوئی، مگر ایک تجزیہ نگار کے طور پر اس امر کی نشاندہی ضروری ہے کہ خلیجی ممالک میں حالیہ مہینوں میں جس طرح پیشہ ور گداگری کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا ہے، وہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

    سعودی عرب میں رواں سال کے اوائل میں سینکڑوں پاکستانی شہری گداگری میں ملوث پائے گئے، جنہیں گرفتار کیا گیا۔

    دبئی پولیس نے 2023–24 کے دوران صرف رمضان اور عید کے دنوں میں 200 سے زائد افراد کو اسی جرم میں حراست میں لیا، جن میں سے متعدد کا تعلق پاکستان سے تھا۔

    یہ واقعات پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا جیسے باشعور اور محنت کش لوگوں کے علاقے میں اگر گداگری کا رجحان بڑھتا ہے تو حکومت کو اس کے لیے صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

    اختتامیہ: نیک نیتی، عمل اور ہم آہنگی کی ضرورت

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں اٹھایا گیا یہ قدم بلاشبہ خوش آئند ہے، تاہم اصل امتحان قانون کی زمینی سطح پر مؤثر عملداری ہے۔ جب تک پولیس، سوشل ویلفیئر، مقامی حکومت، نفسیاتی ماہرین، NGOs اور کمیونٹی ورکز سب ایک پیج پر نہ ہوں، اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔

    یہی وہ وقت ہے کہ حکومت خلوص نیت سے یہ ثابت کرے کہ یہ قانون محض اجلاس یا کاغذ تک محدود نہیں بلکہ ایک سماجی بہتری کی تحریک بنے گا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleکرک میں مسافر وین اور ٹرالر میں تصادم، خاتون اور بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق
    Next Article پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان
    Web Desk

    Related Posts

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026

    بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ

    اگست 31, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات

    اگست 31, 2026

    پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک

    اگست 31, 2026

    بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ

    اگست 31, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ دورے پر بشکیک پہنچ گئے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

    اگست 31, 2026

    مردان: کاٹلنگ بابوزئی میں سی ٹی ڈی کی خفیہ ا طلاع پر کامیاب کارروائی، 2دہشت گرد ہلاک

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.