Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور میں 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے 2 واقعات، دو افراد قتل
    • ڈی آئی خان میں ٹی ایم اے ملازمین 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم
    • ایٹم کونسل کا سمپوزیم: میڈیا کی تعلیم اور نشریاتی صنعت کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش
    • پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کیسے ملے گی؟ حکومت نے طریقہ بتادیا
    • اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا کسی سیاسی جماعت کو اختیار نہیں، ہائیکورٹ
    • برمنگھم ٹیسٹ: رضا اللہ نے ڈیبیو پر تیز ترین پاکستانی نصف سنچری کا ریکارڈ بنا دیا
    • پشاور کے 45 نجی اسکولوں میں افغان بچوں کے داخلوں کی نشاندہی، کارروائی کی تیاری
    • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بلوچستان میں کوئلے کی کانیں محنت کشوں کی دشمن بن گئی
    اہم خبریں جون 20, 2024

    بلوچستان میں کوئلے کی کانیں محنت کشوں کی دشمن بن گئی

    Facebook Twitter Email
    Coal mines in Balochistan became the enemy of human lives
    Share
    Facebook Twitter Email

    بلوچستان میں کوئلے کی کانیں انسانی جانوں کی دشمن بن گئی ہیں۔بلوچستان میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث کوئلے کی کانیں کھنڈرات بن کررہ گئی ہیں ۔پچھلے 10 سالوں میں 900 کے قریب کان کن مختلف حادثات میں تباہ ہو چکے ہیں۔

    بلوچستان میں کوئلہ کی کان کنی کا آغاز سن 1873ء میں ہوا تھا۔ جبکہ اس کے برعکس تقریباً ڈیڑھ صدی گذرنے کے باوجود بھی کانکنی کے طریقہ کار میں کوئی نئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں تقریباً 44 ہزار سے زائد محنت کش کام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی آلات کی کمی، نہایت ہی ناکارہ مشینری، حکومتی غفلت اور ٹھیکیداری نظام کے باعث اس وقت ہزاروں کے قریب زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

    مزدوروں کے مطابق ان مقامی کوئلہ کانوں میں زہریلی گیس کے اخراج کے لیے وینیٹی لیٹر اور اخراج کے پائپ تک موجود نہیں ہیں۔ جبکہ کان کے اندر حادثات سے بچ جانے والے کان کن شدید مہلک قسم کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کان کنوں کے مطابق کوئلے کے زرات صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہوتے ہیں،یہ گردے خراب کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر روز کوئی نہ کوئی بیماری ہوجاتی ہے، دانتوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

    بلوچستان میں محکمہ معدنیات کے حکام کے مطابق سالانہ 40 سے 50 لاکھ ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس گزشتہ 10 سالوں کے دوران 600 واقعات میں 900 کے قریب کان کن اپنی جانیں گنواچکے ہیں جبکہ رواں سال 21 حادثات میں 46 کان کن جاں بحق ہوگئے ہیں۔دوسری طرف صوبائی حکومت کے مطابق ان حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائےگا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغان خواتین اپنی ہی سرزمین پر بے بسی کی زندگی گزار رہی ہیں
    Next Article خیبرپختونخوا:پیسکو نے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق تفصیلات جاری کردیں
    Mahnoor

    Related Posts

    پشاور میں 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے 2 واقعات، دو افراد قتل

    ستمبر 15, 2026

    ایٹم کونسل کا سمپوزیم: میڈیا کی تعلیم اور نشریاتی صنعت کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش

    ستمبر 14, 2026

    اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا کسی سیاسی جماعت کو اختیار نہیں، ہائیکورٹ

    ستمبر 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور میں 24 گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے 2 واقعات، دو افراد قتل

    ستمبر 15, 2026

    ڈی آئی خان میں ٹی ایم اے ملازمین 6 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

    ستمبر 15, 2026

    ایٹم کونسل کا سمپوزیم: میڈیا کی تعلیم اور نشریاتی صنعت کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش

    ستمبر 14, 2026

    پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کیسے ملے گی؟ حکومت نے طریقہ بتادیا

    ستمبر 14, 2026

    اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا کسی سیاسی جماعت کو اختیار نہیں، ہائیکورٹ

    ستمبر 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.