Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جولائی 15, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش کا امکان
    • امریکا، ایران کشیدگی سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
    • آپریشن شعبان میں مزید 3 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 88 ہوگئی
    • پشاور میں غیر قانونی مقیم 640 افغان شہری گرفتار، رجسٹریشن کے بعد طورخم کے راستے ڈی پورٹ
    • پشاور میں بم ناکارہ بنانے کے دوران پھٹ گیا، بی ڈی یو اہلکار شہید
    • گورنر خیبر پختونخوا اور سعودی سفیر نے پشاور میں سعودی ایئرلائنز کے نئے دفتر کا افتتاح کر دیا
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترک صدر سے ملاقات، پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو
    • وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بلوچستان میں کوئلے کی کانیں محنت کشوں کی دشمن بن گئی
    اہم خبریں

    بلوچستان میں کوئلے کی کانیں محنت کشوں کی دشمن بن گئی

    جون 20, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Coal mines in Balochistan became the enemy of human lives
    Share
    Facebook Twitter Email

    بلوچستان میں کوئلے کی کانیں انسانی جانوں کی دشمن بن گئی ہیں۔بلوچستان میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث کوئلے کی کانیں کھنڈرات بن کررہ گئی ہیں ۔پچھلے 10 سالوں میں 900 کے قریب کان کن مختلف حادثات میں تباہ ہو چکے ہیں۔

    بلوچستان میں کوئلہ کی کان کنی کا آغاز سن 1873ء میں ہوا تھا۔ جبکہ اس کے برعکس تقریباً ڈیڑھ صدی گذرنے کے باوجود بھی کانکنی کے طریقہ کار میں کوئی نئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں تقریباً 44 ہزار سے زائد محنت کش کام کرتے ہیں۔ جبکہ ان کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی آلات کی کمی، نہایت ہی ناکارہ مشینری، حکومتی غفلت اور ٹھیکیداری نظام کے باعث اس وقت ہزاروں کے قریب زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

    مزدوروں کے مطابق ان مقامی کوئلہ کانوں میں زہریلی گیس کے اخراج کے لیے وینیٹی لیٹر اور اخراج کے پائپ تک موجود نہیں ہیں۔ جبکہ کان کے اندر حادثات سے بچ جانے والے کان کن شدید مہلک قسم کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کان کنوں کے مطابق کوئلے کے زرات صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہوتے ہیں،یہ گردے خراب کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر روز کوئی نہ کوئی بیماری ہوجاتی ہے، دانتوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

    بلوچستان میں محکمہ معدنیات کے حکام کے مطابق سالانہ 40 سے 50 لاکھ ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس گزشتہ 10 سالوں کے دوران 600 واقعات میں 900 کے قریب کان کن اپنی جانیں گنواچکے ہیں جبکہ رواں سال 21 حادثات میں 46 کان کن جاں بحق ہوگئے ہیں۔دوسری طرف صوبائی حکومت کے مطابق ان حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائےگا۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleافغان خواتین اپنی ہی سرزمین پر بے بسی کی زندگی گزار رہی ہیں
    Next Article خیبرپختونخوا:پیسکو نے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق تفصیلات جاری کردیں
    Mahnoor

    Related Posts

    امریکا، ایران کشیدگی سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں

    جولائی 15, 2026

    آپریشن شعبان میں مزید 3 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 88 ہوگئی

    جولائی 15, 2026

    پشاور میں غیر قانونی مقیم 640 افغان شہری گرفتار، رجسٹریشن کے بعد طورخم کے راستے ڈی پورٹ

    جولائی 15, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارش کا امکان

    جولائی 15, 2026

    امریکا، ایران کشیدگی سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں

    جولائی 15, 2026

    آپریشن شعبان میں مزید 3 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 88 ہوگئی

    جولائی 15, 2026

    پشاور میں غیر قانونی مقیم 640 افغان شہری گرفتار، رجسٹریشن کے بعد طورخم کے راستے ڈی پورٹ

    جولائی 15, 2026

    پشاور میں بم ناکارہ بنانے کے دوران پھٹ گیا، بی ڈی یو اہلکار شہید

    جولائی 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.