کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے شمشتو کیمپ کے نزدیک ارمڑ کے ایک احاطے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے ۔
محکمہ انسداد دہشتگردی کے مطابق، یہ عناصر ایک کمپاؤنڈ میں بیٹھ کر حساس اداروں، امام بارگاہوں اور گرجا گھروں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنانے سمیت دیگر سنگین دہشت گردانہ کارروائیوں کا طُرج طے کر رہے تھے ۔
مارے جانے والے دہشت گردوں میں کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر عمران عرف عبداللہ (عرف ابوبکر)، بلال عرف ابوبکر اور اپر مومند کا رہائشی شاہد اللہ ولد میراج بھی شامل ہیں، جبکہ باقی کارندوں کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے ۔
آپریشن کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، چار پستول، دو دستی بم، پانچ میگزین اور ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) برآمد کر لیا ہے،حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا سرغنہ عمران عرف ابوبکر اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں بم دھماکوں، پولیس اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم کے 20 مقدمات میں مطلوب تھا ۔
وہ مولانا خانزیب، سابق سینیٹر ہدایت اللہ خان اور ریحانزیب کی شہادت میں بھی براہ راست ملوث تھا اور ریحانزیب پر حملے کے وقت موقع پر موجود رہ کر فائرنگ بھی کی تھی، اس کے علاوہ، وہ 2023 میں باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کے ورکرز کنونشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ملوث پایا گیا تھا ۔
سی ٹی ڈی کے مطابق، عمران عرف ابوبکر 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلئی کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کا بھی مرکزی کردار تھا۔ اسی نے حملے کے لیے خودکش جیکٹ باجوڑ سے منگوائی تھی اور خودکش بمبار کو نوشہرہ سے ترلئی تک پہنچایا تھا، جبکہ دوسرے ہلاک ہونے والے دہشت گرد شاہد اللہ نے اس امام بارگاہ کی ریکی کرنے اور ہدف کی نشاندہی کرنے کی ذمے داری نبھائی تھی ۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے ہلاک کمانڈر عمران عرف ابوبکر کی گرفتاری یا اس کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ بیس لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا تھا، کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کا آغاز کر رکھا ہے ۔

