Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, جولائی 26, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم شہبازشریف کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • پہلے ٹیسٹ کاپہلا دن:ویسٹ انڈیز کے 3 وکٹوں پر 194 رنز،عباس کے 2 شکار
    • کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی
    • تھانہ رحمان بابا پولیس کا سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن، اشتہاری سمیت متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ، منشیات اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد
    • حکومت کا 27 جولائی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
    • جنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، خودکش بمبار سمیت 4 حملہ آور ہلاک
    • کیئر اسٹارمر دباؤ کے تحت مستعفی ہوئے،ایرانی سفیر کا دعویٰ
    • خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ڈی آئی جی اعجازخان اور پولیس کے بڑے؟
    بلاگ

    ڈی آئی جی اعجازخان اور پولیس کے بڑے؟

    ستمبر 5, 2024Updated:ستمبر 5, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    DIG Ijaz Khan
    DIG Ijaz Khan
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(رشید آفاق) کہتے ہیں کہ ایک پیر و مرید کسی ملک میں گئے جہاں دیسی گھی  دو روپے اور آلو چالیس روپے کلو میں فروخت ہورہا تھا،پیر صاحب نے کہا کہ یہاں سے جلد از جلد چلنا چاہئے لیکن مرید نے کہا کہ کچھ دن یہاں رہ کر دیسی گھی کھاکر باڈی شاڈی بنا دینگے آلو اگر مہنگے ہیں تو وہ ہم نہیں کھائینگے بلکہ دیسی گھی ہی تناول فرمائینگے،پیر صاحب نے کہا کہ یہاں سب کچھ اُلٹ پَلٹ چل رہاہے یہاں سے جتنا جلد ہوسکے بھاگنا چاہئے،بہرحال  مرید کی فرمائش پر پیر صاحب نے واپس جانے کا ارادہ ملتوی کردیا۔ایک دن مرید بازار  جارہاتھا کہ پولیس نے روک کر ان کی گردن میں رسی ڈالی اور پھر خوش ہوکر نعرے لگائے کہ رسی فٹ ہوگئی،مرید صاحب کو گرفتار کیا،پوچھنے پر بتایا کہ ایک آدمی نے قتل کیا تھا جسے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اس کی گردن موٹی تھی اس لئے رسی اس میں فٹ نہیں آرہی تھی چونکہ یہاں انصاف جلدی فراہم کیا جاتاہے لہذا کسی کو تو پھانسی پر لٹکانا تھا،اس لئے رسی جس کی گردن میں فٹ ہوگی اسے پھانسی دی جائیگی،تمہیں کل پھانسی دی جائیگی،ادھر پیر صاحب تلاش کرتے کرتے کل اس میدان تک پہنچ گیا جہاں مرید صاحب کو پھانسی دینی تھی،پیر صاحب نے مرید کی طرف بھاگ کر کہا کہ میں اس کا پیر ہوں،یہ مرکر سیدھا جنت میں جائیگا لہذا پہلے مجھے جنت جانے کا حق ہے کیونکہ میں اس کا پیر صاحب ہوں،پہلے مجھے پھانسی دی جائے،یہ سن کر بادشاہ نے چلانگ لگا کر رسی اپنی گردن میں ڈال کر کہا کہ میں پوری سلطنت کا پیر ہوں اگر ایسی بات ہے تو پہلے مجھے پھانسی دی جائے تاکہ میں سب سے پہلے جنت میں جاوں  اوریوں  بادشاہ سلامت پھانسی پر لٹک گئے۔

    اس طرح کا واقعہ ہمارے دوست اور ہر دلعزیز ڈی آئی جی اعجاز خان کے ساتھ بھی ہوا،خودکش حملہ کہاں ہوا تھا، اعجاز خان کہاں کے ڈی آئی جی تھے اور انہیں معطل کرکے نجانے کس جرم کی سزا دیکر پتہ نہیں کس کو خوش کرنا مقصود تھا؟پھر ستم ظریفی کی انتہا یہ کہ اعجاز خان جیسےعوامی اور تگڑے پولیس آفیسر وردی پہن کر آفس آتے جاتے ہیں بس۔

    میرے خیال میں اس طرح کے جناتی تجربات کو اب بند ہونا چاہئے،پولیس کی بیش بہا قربانیاں ہیں جس کو قوم ساتھ قدر کی نگاہ سے دیکھتی  ہے،پولیس اور پولیس کے اعلی آفیسرز کو عوام اپنا ہیرو سمجھتے ہیں،عوام اپنے ہیروز کو ہیروز دیکھنا چاہتے ہیں،پولیس اور عوام اب نہ صرف وہ نہیں رہے جو کبھی ہوا کرتے تھے بلکہ وہ تمام ایسے ناقابل تسخیر کارناموں کو سمجھتے بھی ہیں،اس لئے پولیس کے بڑوں کو ایسے غیرمقبول،غیر موضوع اور غیر یقینی صورتحال میں ایسے غیرقانونی فیصلے نہیں کرنے چاہئیں،یقین مانئے کہ اعجاز خان اب بھی اتنے ہی قابل قدر اور قابل تحسین ہیں جتنے وہ معطل ہونے سے پہلے تھے،بس اس میں پولیس کا دو طرح سے نقصان ہورہاہے،ایک یہ کہ پولیس ایک قابل آفیسر کی خدمات اور کام سے محروم ہوجاتی ہے دوسرا اس طرح کے فیصلوں سے خود پولیس کا مورال گر جاتاہے،پھر ہر آفیسر یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ جب اعجاز خان جیسے قابل آفیسر کو یہ صلہ ملا تو ہم کونسی اچھائی کی امید رکھیں؟اور پھر تو ہمارے ہاں  کچھ بھی ہوسکتاہے اور کسی ناکردہ گناہ کی سزا بھی بھگت سکتے ہیں۔

    بس عرض پیش خدمت ہے کہ جو ہوا سو ہوا ۔اب اعجاز خان کو عزت و وقار کے ساتھ بحال کرکے پولیس کے اعلی آفیسر اپنی اور پولیس کے وقار میں اضافہ کریں اور خدارا آئندہ ایسے بے سروپا فیصلوں سے گریز کیا جائے،کیونکہ یہ صرف پولیس کا مسئلہ نہیں عوام  کی امیدوں اور امنگوں کا مسئلہ ہے،کسی انتہائی عزت دار پولیس آفیسر کی عزت و وقار کا مسئلہ ہے،ایسے غیرسنجیدہ فیصلوں سے معاشرے کا سنجیدہ طبقہ متاثر ہوتاہے،پولیس کو اگر اپنی پولیس فورس عزت نہیں دیگی تو کیا انڈیا یا ایتھوپیا کے عوام دیں گے؟

    خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleاسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہے،گورنر اپنا شوق پورا کرلیں،بیرسٹرسیف
    Next Article وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی راہداری ضمانت منظور
    Rashid Afaq
    • Website

    Related Posts

    تھانہ رحمان بابا پولیس کا سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن، اشتہاری سمیت متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ، منشیات اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد

    جولائی 26, 2026

    جنوبی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، خودکش بمبار سمیت 4 حملہ آور ہلاک

    جولائی 25, 2026

    خیبرپختونخوا: بارشوں اور فلش فلڈ سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی، پی ڈی ایم اے

    جولائی 24, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم شہبازشریف کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    جولائی 26, 2026

    پہلے ٹیسٹ کاپہلا دن:ویسٹ انڈیز کے 3 وکٹوں پر 194 رنز،عباس کے 2 شکار

    جولائی 26, 2026

    کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی

    جولائی 26, 2026

    تھانہ رحمان بابا پولیس کا سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن، اشتہاری سمیت متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ، منشیات اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد

    جولائی 26, 2026

    حکومت کا 27 جولائی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

    جولائی 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.