پشاور (حسن علی شاہ) نوشہرہ کے بڑے سرکاری اسپتال قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں جعلی اسناد کی بنیاد پر مبینہ طور پر سات افراد کی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے کی شکایات اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو موصول ہوئی تھیں، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر جعلی اسناد پر بھرتی ہونے والے ملازمین کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جن افراد کے خلاف کارروائی کا امکان ہے ان میں محمد الطاف (اسسٹنٹ رجسٹرار میڈیکل فیکلٹی خیبرپختونخوا)، خیال محمد (اسسٹنٹ کنٹرولر میڈیکل فیکلٹی پشاور)، اصف اللہ، صبا گل، انعامیہ، ساحرہ بی بی اور محمد اویس (ڈائیلاسز ٹیکنیشنز قاضی حسین احمد ہسپتال نوشہرہ) شامل ہیں۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ محمد الطاف اور خیال محمد پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ میڈیکل فیکلٹی پشاور میں مبینہ طور پر طلبہ سے فی پرچہ 20 ہزار روپے وصول کر کے پاسنگ مارکس دلوانے میں ملوث رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان افراد نے اس مقصد کے لیے ایجنٹس بھی مقرر کر رکھے تھے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مبینہ لین دین ورسک روڈ اریگیشن کالونی میں واقع ایک رہائش گاہ پر کیا جاتا تھا۔ اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

