Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    • بلوچستان میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے پہلا ڈیف چلڈرن ایکسی لینس اینڈ ریسرچ سینٹر قائم
    • پشاور میں قبر کھود کر بچوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والا درندہ صفت افغانی گرفتار
    • جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » سائبر جنگ:  ایک خاموش مگر خطرناک جنگ
    اہم خبریں مئی 9, 2025

    سائبر جنگ:  ایک خاموش مگر خطرناک جنگ

    Facebook Twitter Email
    Cyber Wars: How Invisible Attacks Can Paralyze a Nation
    When Hackers Go to War: The Silent Weapon of the 21st Century
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا آج جہاں ایک طرف ایٹمی ہتھیاروں اور ڈرونز کے سائے تلے کھڑی ہے، وہیں ایک اور خطرہ خاموشی سے اپنی جگہ مضبوط کر چکا ہے, سائبر اٹیک یہ ایسا خطرہ ہے جو نظر نہیں آتا، مگر پورے ملک کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

     سائبر اٹیک کیا ہوتا ہے؟

    سادہ الفاظ میں، سائبر اٹیک ایک ایسا حملہ ہوتا ہے جس میں کوئی شخص یا گروہ کسی کمپیوٹر، موبائل، نیٹ ورک یا پورے ادارے کے ڈیجیٹل نظام میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر ڈیٹا چراتا یا اس نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ نظام کسی فرد کا موبائل فون بھی ہو سکتا ہے اور کسی ملک کا بجلی کا نظام بھی۔

     سیکیورٹی دیواریں اور ہیکرز کا حملہ

    جیسے آپ اپنے گھر کو چوروں سے بچانے کے لیے تالے، کیمرے اور گارڈز رکھتے ہیں، ویسے ہی کمپیوٹرز میں فائر وال، اینٹی وائرس اور پاس ورڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔ مگر ہیکرز ان حفاظتی دیواروں کو توڑ کر اندر گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہیکرز عام افراد ہوتے ہیں، اور کبھی کبھی حکومتیں خود ان کا استعمال کرتی ہیں تاکہ دشمن ملک کو ڈیجیٹل طور پر نقصان پہنچایا جا سکے۔

    جنگی حالات میں سائبر اٹیک کی تباہ کاری

    جنگ کے دوران سائبر حملے کسی بھی ملک کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتے ہیں:

    • بجلی کا بریک ڈاؤن: دشمن ملک کے پاور سسٹم پر حملہ کر کے ملک کو اندھیرے میں ڈوبا جا سکتا ہے۔

    • فوجی رابطوں کی معطلی: افواج کے آپس کے رابطے منقطع کر کے میدانِ جنگ میں انہیں الجھایا جا سکتا ہے۔

    • اسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو مفلوج کرنا: جان بچانے والے نظام غیر فعال ہو سکتے ہیں۔

    • بینکنگ نظام پر حملے: اے ٹی ایم بند، ٹرانزیکشنز رک جانا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا دشمن کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

    ماضی کے مہلک سائبر حملے

    1. اسٹکس نیٹ (Stuxnet)
      یہ دنیا کا پہلا سائبر ہتھیار مانا جاتا ہے، جو مبینہ طور پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے نیوکلیئر پلانٹ پر استعمال کیا گیا۔ اس حملے سے ایران کے 1000 سے زائد سینٹری فیوجز ناکارہ ہو گئے۔

    2. یوکرین میں بجلی کی بندش (2015)
      روسی ہیکرز پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے پاور گرڈ پر حملہ کیا، جس سے لاکھوں لوگ تاریکی میں ڈوب گئے۔

    3. سیٹلائٹ مواصلاتی حملہ (2022)
      روس نے یوکرین کی فوجی براڈ بینڈ سروس کو متاثر کیا، جس سے ان کے مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔

    4. جارجیا پر سائبر حملہ (2008)
      روسی ہیکرز نے جارجیا کی سرکاری ویب سائٹس بند کر دیں، جس سے جنگ کے دوران اطلاعات کی ترسیل متاثر ہوئی۔

     عام آدمی کیسے بچ سکتا ہے؟

    حبیب اللہ خان، ایک سائبر سیکیورٹی ماہر کے مطابق، سائبر خطرات سے بچنے کے لیے ہر فرد کو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اپنانا چاہیے:

    مضبوط پاس ورڈ کا استعمال

    • ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ اور کم از کم 16 حروف والا پاس ورڈ رکھیں۔

    • پاس ورڈ مینیجرز کا استعمال کریں تاکہ انہیں محفوظ رکھا جا سکے۔

    دو طرفہ تصدیق

    • جہاں ممکن ہو، دو مرحلوں پر مبنی تصدیق کو فعال کریں تاکہ سیکیورٹی مزید مضبوط ہو۔

     سافٹ ویئر اپ ڈیٹس

    • پرانا سافٹ ویئر ہیکرز کے لیے آسان ہدف ہوتا ہے۔ ہمیشہ جدید ترین ورژن استعمال کریں۔

     مشکوک لنکس سے پرہیز

    • ان ای میلز یا میسجز میں دیے گئے لنکس پر نہ کلک کریں جو آپ کو مشکوک یا غیر متوقع لگیں۔

     ویب ایڈریس کا معائنہ کریں

    • لنکس پر کلک کرنے سے پہلے یہ چیک کریں کہ ایڈریس اصل ویب سائٹ سے مختلف تو نہیں۔

     ایک خاموش مگر خطرناک جنگ

    سائبر اٹیک ایک جدید جنگی ہتھیار ہے جو بغیر بندوق چلائے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ہمیں نہ صرف حکومتی سطح پر سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ہوگا بلکہ عام شہری کو بھی اس کے خطرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleلائن آف کنٹرول پر پاکستان کی بھارتی فوج کیخلاف جوابی کارروائیاں جاری
    Next Article بھارتی جارحیت کے باوجود آپریشن سندور کی ناکامی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026

    پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

    ستمبر 22, 2026

    آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی

    ستمبر 22, 2026

    وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.