Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, اگست 28, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
    • جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
    • ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی
    • لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے
    • سی ٹی ڈی پشاور ریجن کی قبرستان مہر گل کلے، میراکچوڑی میں کامیاب کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک
    • کویت کے وزیرِ دفاع کی راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • پاکستان کی مسلح افواج کویتی فوج کی تربیت و سرحدی دفاع میں معاونت کیلئے معاہدے پر دستخط
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟
    اہم خبریں جولائی 6, 2024

    بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟

    Facebook Twitter Email
    How many people are currently involved in the fishing sector in Balochistan
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی موجودہ سمندری ماہی گیری کی صلاحیت 500 ملین ڈالر تک ہے جس کو 100 بلین ڈالر تک بھی آگئے بڑھایا جا سکتا ہے۔

    بلوچستان میں اس وقت 6 لاکھ افراد ماہی گیری کے شعبے میں ہیں۔جس میں سے تقریبا 82,583 افراد رجسٹرڈ ہے،سال 2023 میں 137000 میٹرک ٹن کے قریب مچھلی کو پکڑا گیا جس کی مالیت 105 ملین ڈالر تھی۔ بلوچستان میں اس وقت 36 کولڈ اسٹوریج پلانٹس نصب ہیں۔ماہرین کےمطابق اگر بلوچستان میں فش پروسیسنگ پلانٹس کو قائم کیا جائے تو صوبے میں ماہی گیری کی وجہ سے آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہی گیری کی صنعت ساحلی علاقوں سے وابستہ تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع دے سکتی ہے۔اس لئے صوبے بھر میں ماہی گیری کی صنعت کے لیے قومی سطح کے منصوبے قائم کئے جانے چاہے۔حکومت نے سمندری ایمبولنس منصوبہ سمندرمیں پھنسے ماہی گیروں کو بروقت امداد فراہم کرنے کےلیے شروع کیا تھا۔جس میں گرین بوٹس اور پٹرولنگ بوٹس بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔

    سال 2021-2022  میں ماڈل فش مارکیٹ پسنی منصوبہ  شروع کیا گیاجس پر تقریبا 10 ملین کے قریب لاگت آئی۔سال 2024-2025 میں پی ایس ڈی پی کے تحت نئے منصوبے،اتل اورسربندر کمپلیکس کا آغاز کیا گیا، اور ڈی ڈی ایس سی اسکیم کی منظوری  بھی دی گئی۔جس کی کل لاگت 50 ملین روپے تک آئی۔اس کے برعکس محکمہ فشریز کی ڈیجیٹلائزیشن پر 100 ملین کے قریب لاگت آئی۔بلوچستان میں فش ہچیریوں کےقیام کی وجہ سے فش فارمنگ کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان کی خوشحالی کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleنوشہرہ میں 3 افراد کو دشمنی کے نام پر قتل کردیاگیا
    Next Article پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کیوں کی گئی؟
    Mahnoor

    Related Posts

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    اگست 28, 2026

    جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی

    اگست 28, 2026

    لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے

    اگست 28, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سعودی وزیر ماحولیات کی اہم ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    اگست 28, 2026

    جنوبی وزیرستان کے بازار میں دھماکہ، امن کمیٹی کا رکن جاں بحق، 8 افراد زخمی

    اگست 28, 2026

    بیرسٹر افتخار گیلانی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    اگست 28, 2026

    ہاکی ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر پاکستان نے 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

    اگست 28, 2026

    لیگی رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے

    اگست 28, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.