Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اپریل 26, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ایس ایل 11، لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو 6 وکٹ سے شکست دیدی
    • ایران امریکہ مذاکرات: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کردیا
    • پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد سے عمان روانہ
    • پاکستان نے الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او تھری کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا
    • بہترین حکمت عملی اور مؤثر سفارتکاری کے باعث پاکستان کا عالمی وقار نمایاں طور پر بلند
    • سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے منفی رجحان، 3267 پوائنٹس کی کمی
    • لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی، درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
    • ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟
    اہم خبریں

    بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟

    جولائی 6, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How many people are currently involved in the fishing sector in Balochistan
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی موجودہ سمندری ماہی گیری کی صلاحیت 500 ملین ڈالر تک ہے جس کو 100 بلین ڈالر تک بھی آگئے بڑھایا جا سکتا ہے۔

    بلوچستان میں اس وقت 6 لاکھ افراد ماہی گیری کے شعبے میں ہیں۔جس میں سے تقریبا 82,583 افراد رجسٹرڈ ہے،سال 2023 میں 137000 میٹرک ٹن کے قریب مچھلی کو پکڑا گیا جس کی مالیت 105 ملین ڈالر تھی۔ بلوچستان میں اس وقت 36 کولڈ اسٹوریج پلانٹس نصب ہیں۔ماہرین کےمطابق اگر بلوچستان میں فش پروسیسنگ پلانٹس کو قائم کیا جائے تو صوبے میں ماہی گیری کی وجہ سے آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہی گیری کی صنعت ساحلی علاقوں سے وابستہ تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع دے سکتی ہے۔اس لئے صوبے بھر میں ماہی گیری کی صنعت کے لیے قومی سطح کے منصوبے قائم کئے جانے چاہے۔حکومت نے سمندری ایمبولنس منصوبہ سمندرمیں پھنسے ماہی گیروں کو بروقت امداد فراہم کرنے کےلیے شروع کیا تھا۔جس میں گرین بوٹس اور پٹرولنگ بوٹس بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔

    سال 2021-2022  میں ماڈل فش مارکیٹ پسنی منصوبہ  شروع کیا گیاجس پر تقریبا 10 ملین کے قریب لاگت آئی۔سال 2024-2025 میں پی ایس ڈی پی کے تحت نئے منصوبے،اتل اورسربندر کمپلیکس کا آغاز کیا گیا، اور ڈی ڈی ایس سی اسکیم کی منظوری  بھی دی گئی۔جس کی کل لاگت 50 ملین روپے تک آئی۔اس کے برعکس محکمہ فشریز کی ڈیجیٹلائزیشن پر 100 ملین کے قریب لاگت آئی۔بلوچستان میں فش ہچیریوں کےقیام کی وجہ سے فش فارمنگ کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان کی خوشحالی کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleنوشہرہ میں 3 افراد کو دشمنی کے نام پر قتل کردیاگیا
    Next Article پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کیوں کی گئی؟
    Mahnoor

    Related Posts

    ایران امریکہ مذاکرات: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کردیا

    اپریل 25, 2026

    پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد سے عمان روانہ

    اپریل 25, 2026

    پاکستان نے الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او تھری کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا

    اپریل 25, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ایس ایل 11، لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو 6 وکٹ سے شکست دیدی

    اپریل 25, 2026

    ایران امریکہ مذاکرات: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کردیا

    اپریل 25, 2026

    پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد سے عمان روانہ

    اپریل 25, 2026

    پاکستان نے الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او تھری کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا

    اپریل 25, 2026

    بہترین حکمت عملی اور مؤثر سفارتکاری کے باعث پاکستان کا عالمی وقار نمایاں طور پر بلند

    اپریل 25, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.