Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, جنوری 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وینزویلا میں نئی حکومت کے قیام تک تمام معاملات امریکہ چلائے گا،امریکی صدر ٹرمپ
    • پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنا ابتدائی اسکواڈ آئی سی سی کو جمع کرا دیا
    • ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے خود ووٹ کے حق کو پامال کیا: اسد قیصر
    • امریکہ کی بڑی عسکری کارروائی، صدر نیکولس مدورو کو گرفتار کر لیا
    • وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے 17 جنوری کو پیش کرنے کا حکم
    • استور میں برفانی تودہ گرنے سے افسر سمیت 3 اہلکار شہید
    • امریکی فوج کے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملے
    • پاک فضائیہ کا جدید ترین تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ، دشمن خوفزدہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟
    اہم خبریں

    بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟

    جولائی 6, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How many people are currently involved in the fishing sector in Balochistan
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی موجودہ سمندری ماہی گیری کی صلاحیت 500 ملین ڈالر تک ہے جس کو 100 بلین ڈالر تک بھی آگئے بڑھایا جا سکتا ہے۔

    بلوچستان میں اس وقت 6 لاکھ افراد ماہی گیری کے شعبے میں ہیں۔جس میں سے تقریبا 82,583 افراد رجسٹرڈ ہے،سال 2023 میں 137000 میٹرک ٹن کے قریب مچھلی کو پکڑا گیا جس کی مالیت 105 ملین ڈالر تھی۔ بلوچستان میں اس وقت 36 کولڈ اسٹوریج پلانٹس نصب ہیں۔ماہرین کےمطابق اگر بلوچستان میں فش پروسیسنگ پلانٹس کو قائم کیا جائے تو صوبے میں ماہی گیری کی وجہ سے آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہی گیری کی صنعت ساحلی علاقوں سے وابستہ تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع دے سکتی ہے۔اس لئے صوبے بھر میں ماہی گیری کی صنعت کے لیے قومی سطح کے منصوبے قائم کئے جانے چاہے۔حکومت نے سمندری ایمبولنس منصوبہ سمندرمیں پھنسے ماہی گیروں کو بروقت امداد فراہم کرنے کےلیے شروع کیا تھا۔جس میں گرین بوٹس اور پٹرولنگ بوٹس بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔

    سال 2021-2022  میں ماڈل فش مارکیٹ پسنی منصوبہ  شروع کیا گیاجس پر تقریبا 10 ملین کے قریب لاگت آئی۔سال 2024-2025 میں پی ایس ڈی پی کے تحت نئے منصوبے،اتل اورسربندر کمپلیکس کا آغاز کیا گیا، اور ڈی ڈی ایس سی اسکیم کی منظوری  بھی دی گئی۔جس کی کل لاگت 50 ملین روپے تک آئی۔اس کے برعکس محکمہ فشریز کی ڈیجیٹلائزیشن پر 100 ملین کے قریب لاگت آئی۔بلوچستان میں فش ہچیریوں کےقیام کی وجہ سے فش فارمنگ کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان کی خوشحالی کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleنوشہرہ میں 3 افراد کو دشمنی کے نام پر قتل کردیاگیا
    Next Article پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کیوں کی گئی؟
    Mahnoor

    Related Posts

    وینزویلا میں نئی حکومت کے قیام تک تمام معاملات امریکہ چلائے گا،امریکی صدر ٹرمپ

    جنوری 3, 2026

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنا ابتدائی اسکواڈ آئی سی سی کو جمع کرا دیا

    جنوری 3, 2026

    ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے خود ووٹ کے حق کو پامال کیا: اسد قیصر

    جنوری 3, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وینزویلا میں نئی حکومت کے قیام تک تمام معاملات امریکہ چلائے گا،امریکی صدر ٹرمپ

    جنوری 3, 2026

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنا ابتدائی اسکواڈ آئی سی سی کو جمع کرا دیا

    جنوری 3, 2026

    ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے خود ووٹ کے حق کو پامال کیا: اسد قیصر

    جنوری 3, 2026

    امریکہ کی بڑی عسکری کارروائی، صدر نیکولس مدورو کو گرفتار کر لیا

    جنوری 3, 2026

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے 17 جنوری کو پیش کرنے کا حکم

    جنوری 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.