Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جنوری 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی
    • ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ
    • صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے
    • بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔
    • امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔
    • امجدخان کو فلم ۔۔شعلے۔میں گبرسنگھ کا کردار کیسے اور کیوں افر کیا گیا۔۔۔۔۔؟
    • خیبرٹیلی ویژن کی ترقی کی داستان قمرزمان ( سکواش چمپئن ) کی زبان)
    • بختاور قیوم اور احمد شیر کا سوشل جنکشن دیکھئے ڈیجیٹل کی دنیا میں کےٹو اسلام آباد سے براہ راست۔۔۔۔
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟
    اہم خبریں

    بلوچستان میں اس وقت کتنے افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں؟

    جولائی 6, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    How many people are currently involved in the fishing sector in Balochistan
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کی موجودہ سمندری ماہی گیری کی صلاحیت 500 ملین ڈالر تک ہے جس کو 100 بلین ڈالر تک بھی آگئے بڑھایا جا سکتا ہے۔

    بلوچستان میں اس وقت 6 لاکھ افراد ماہی گیری کے شعبے میں ہیں۔جس میں سے تقریبا 82,583 افراد رجسٹرڈ ہے،سال 2023 میں 137000 میٹرک ٹن کے قریب مچھلی کو پکڑا گیا جس کی مالیت 105 ملین ڈالر تھی۔ بلوچستان میں اس وقت 36 کولڈ اسٹوریج پلانٹس نصب ہیں۔ماہرین کےمطابق اگر بلوچستان میں فش پروسیسنگ پلانٹس کو قائم کیا جائے تو صوبے میں ماہی گیری کی وجہ سے آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہی گیری کی صنعت ساحلی علاقوں سے وابستہ تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع دے سکتی ہے۔اس لئے صوبے بھر میں ماہی گیری کی صنعت کے لیے قومی سطح کے منصوبے قائم کئے جانے چاہے۔حکومت نے سمندری ایمبولنس منصوبہ سمندرمیں پھنسے ماہی گیروں کو بروقت امداد فراہم کرنے کےلیے شروع کیا تھا۔جس میں گرین بوٹس اور پٹرولنگ بوٹس بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔

    سال 2021-2022  میں ماڈل فش مارکیٹ پسنی منصوبہ  شروع کیا گیاجس پر تقریبا 10 ملین کے قریب لاگت آئی۔سال 2024-2025 میں پی ایس ڈی پی کے تحت نئے منصوبے،اتل اورسربندر کمپلیکس کا آغاز کیا گیا، اور ڈی ڈی ایس سی اسکیم کی منظوری  بھی دی گئی۔جس کی کل لاگت 50 ملین روپے تک آئی۔اس کے برعکس محکمہ فشریز کی ڈیجیٹلائزیشن پر 100 ملین کے قریب لاگت آئی۔بلوچستان میں فش ہچیریوں کےقیام کی وجہ سے فش فارمنگ کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان کی خوشحالی کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleنوشہرہ میں 3 افراد کو دشمنی کے نام پر قتل کردیاگیا
    Next Article پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کیوں کی گئی؟
    Mahnoor

    Related Posts

    لکی مروت میں پولیس مقابلہ، فائرنگ کے تبادلے میں ایک خطرناک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    جنوری 22, 2026

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برفباری، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ الرٹ

    جنوری 22, 2026

    کوہاٹ کے مرکزی بازار میں افغان مہاجرین کی غیر قانونی دکانیں سیل

    جنوری 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    عمران خان کی حکومت: نعروں کی حکمرانی، عملی ناکامی

    جنوری 22, 2026

    ضابطہ جاتی اصلاحات ریاستی اختیار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

    جنوری 22, 2026

    صدر ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کا باقاعده اعلان کردیا، وزیراعظم شہبازشریف نے بھی دستخط کرديئے

    جنوری 22, 2026

    بیرون ملک مقیم معروف ڈاکٹروں کے پرائویٹ کلینکس میں سادہ لوح مریضوں کو دھوکہ دیکر لوٹا جانے کا انکشاف۔۔۔

    جنوری 22, 2026

    امریکہ نے پشتونوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کیا ھمارے مشران کے قتل اور ٹقافت کو ختم کرنے کیلئے ھرحربہ ازمایا۔۔ جمال شاہ۔۔

    جنوری 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.